9 مئی کیس: سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا گرفتار، جیل منتقل
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
فیصل آباد + اسلام آباد(نمائندہ خصوصی+این این آئی) 9 مئی کیس میں سزا یافتہ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ اور سابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا کو انسداد دہشت گردی عدالت نے جیل بھیج دیا۔ ذرائع کے مطابق صاحبزادہ حامد رضا گزشتہ رات پشاور سے فیصل آباد آرہے تھے کہ انہیں اسلام آباد پولیس نے ڈی 12 سے گرفتار کرلیا۔ اسلام آباد پولیس نے حامد رضا کو فیصل آباد پولیس کے حوالے کیا۔ تھانہ سول لائن پولیس نے حامد رضا کو گذشتہ روز اے ٹی سی عدالت میں پیش کیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے صاحبزادہ حامد رضا کو جیل بھجوانے کا حکم دے دیا۔ رواں سال 31 جولائی کو فیصل آباد میں انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے حامد رضا، عمر ایوب، شبلی فراز اور زرتاج گل وزیر سمیت پی ٹی آئی کے 196 رہنماؤں اور کارکنوں کو 10 سال تک قید کی سزائیں سنائی تھیں۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ حامد رضا سے بات ہوئی تھی ان کی گرفتاری نہیں ہوئی۔بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حامد رضا نے خود کو سرینڈر کیا ہے، یہ ان کی اپنی مرضی اور فیصلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حامد رضا کا ایک ہی کیس ہے ان پر جو الزام لگایا ہے وہ بے بنیاد ہے۔انہوںنے کہاکہ سہیل آفریدی کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں مل سکی۔ ملاقات ہوگی، تیمارداری بھی ہوگی تو اچھی خبریں آئیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: حامد رضا کو
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔