اسلام ٹائمز: ممدانی کے حامیوں کو بے وقوف قرار دے کر اور اگر نیویارک شہر کا بجٹ منقطع کر دینے کی دھمکی دے کر، ٹرمپ نے امریکہ اور نیویارک میں اپنی موجودہ پوزیشن کے بارے میں مؤثر انداز میں ایک اہم بیان دیا تھا، کیونکہ وہ اس شہر سے وائٹ ہاؤس تک پہنچا تھا۔ بات ٹرمپ اور ٹرمپ پسندوں کو "نہیں" کہنے تک محدود نہیں۔ اب امریکی سیاسی اور سماجی میدان میں ٹرمپ مخالفت رجحان غالب ہوچکا ہے اور اس غلبے کو احتجاجی مارچوں اور بلدیاتی انتخابات کے نتائج میں واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ تحریر: محمد کاظم انبار لوہی
1۔ صرف دو ہفتے پہلے، 50 ریاستوں اور 2700 شہروں میں لاکھوں امریکی سڑکوں پر نکل آئے اور ٹرمپ سے کہا؛ "ہمیں بادشاہ نہیں چاہیئے۔" سڑک پر "نو ٹو ٹرمپ" کا بیلٹ باکس پر کیا اثر ہوتا ہے، اس کا اندازہ نیویارک کے عوام کے ووٹوں اور زہران ممدانی کی جیت سے ہونا چاہیئے۔ نیویارک سٹی یہودی سرمایہ داروں کا مرکز ہے، امریکہ اور دنیا میں رائے عامہ بنانے کا اصلی مقام اور میڈیا کی نگرانی کا مرکز ہے۔ نیویارک صہیونی لابی کا اہم ترین مقام ہے۔ اب اس شہر کے عوام نے ایسے شخص کو ووٹ دیا ہے، جو صیہونی حکومت کی نسل کشی کے خلاف سب سے زیادہ واضح موقف رکھتا ہے اور وہ انتخابات سے پہلے کہہ چکا ہے کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آیاتو وہ اسے گرفتار کریں گے۔
ممدانی کی جیت اسرائیل کے جنگی جرائم سے عوامی نفرت کی علامت ہے۔ نیویارک میں بیس لاکھ سے زائد یہودی رہتے ہیں اور مقبوضہ علاقوں کے بعد یہ یہودیوں کے اجتماع کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک شیعہ مسلمان کا نہ کہ عیسائی یا یہودی کا اکثریتی ووٹ لینا ایک ایسا پیغام ہے، جو "ٹرمپ کو نہیں" کے پیغام سے بھی زیادہ اہم ہے۔ امریکہ میں تازہ ترین سروے بتاتے ہیں کہ اسرائیل کے حامیوں سے زیادہ مخالفین ہیں اور نوجوانوں میں یہ مخالفت بہت زیادہ ہے۔
2۔ زہران ممدانی نے سیاسیات کی تعلیم حاصل کی ہے، ان کے والد کولمبیا میں سیاسیات کے پروفیسر رہے ہیں۔ ممدانی دو سال سے سائنسی حسابات کی بنیاد پر اپنی فتح کے لیے میدان تیار کر رہا تھا۔ ان دو سالوں میں وہ نیویارک میں ایک مسجد سے دوسرے مسجد میں جاکر تقریریں کرتا۔ نیویارک کے مسلمانوں نے انتخابی نتائج پر جو اثرات مرتب کیے ہیں، اس کا سہرا نیویارک کی اسلامک سوسائٹی اور ان کے والد کے سر ہے۔ آج کا امریکی معاشرہ مکمل طور پر دو قطبی ہے۔ وہ مخالف قطب ٹرمپ پر اپنی پوزیشن قائم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
ممدانی سائبر اسپیس اور معاشی انصاف کے میدان میں ایک شفاف اور غیر مبہم پیغام کو ڈیزائن کرکے نوجوانوں کو راغب کرنے میں کامیاب رہے۔ وہ نوجوانوں میں صیہونی حکومت کے مخالفین اور حامیوں کے تناسب سے پوری طرح واقف تھے، اسی لئے ممدانی نے یروشلم اور نیتن یاہو کی غاصب حکومت کے خلاف انتہائی واضح موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کم از کم 10 انتخابی وعدے کیے ہیں، جو انہوں نے نیویارک کے میئر کی حیثیت سے اپنے دور میں نافذ کرنے ہیں۔
ممدانی کے حامیوں کو بے وقوف قرار دے کر اور اگر نیویارک شہر کا بجٹ منقطع کر دینے کی دھمکی دے کر، ٹرمپ نے امریکہ اور نیویارک میں اپنی موجودہ پوزیشن کے بارے میں مؤثر انداز میں ایک اہم بیان دیا تھا، کیونکہ وہ اس شہر سے وائٹ ہاؤس تک پہنچا تھا۔ بات ٹرمپ اور ٹرمپ پسندوں کو "نہیں" کہنے تک محدود نہیں۔ اب امریکی سیاسی اور سماجی میدان میں ٹرمپ مخالفت رجحان غالب ہوچکا ہے اور اس غلبے کو احتجاجی مارچوں اور بلدیاتی انتخابات کے نتائج میں واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نیویارک میں میں ایک
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔