حماس نے مزید 3 لاشیں اسرائیل کو واپس کردیں، غزہ پر بمباری سے ایک فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
غزہ:
حماس نے اسرائیل کی بم باری سے ہلاک ہونے والے مزید 3 قیدیوں کی لاشیں واپس کردیں۔
غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حماس کی جانب سے واپس کی گئی مزید 3 قیدیوں کی لاشیں ہلال احمر کے ذریعے وصول کی گئی ہیں، جن کی شناخت بعد میں کی جائے گی۔
اس سے قبل حماس کی عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے ایک مختصر بیان میں کہا تھا کہ وہ دوران قید ہلاک ہونے والے مزید 3 اسرائیلیوں کی لاشیں واپس کردیں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ غزہ پٹی کے جنوب میں ایک سرنگ کے راستے میں تلاش کے دوران دوپہر کو یہ تین لاشیں ملی ہیں اور یہ لاشوں کو اسرائیل کے حوالے کی جائیں گی۔
اسرائیل نے حماس پر الزام عائد کیا کہ لاشوں کی واپسی میں تاخیر کی جا رہی ہے جبکہ حماس نے واضح کردیا کہ انتہائی مشکل حالات میں کام کیا جا رہا ہے اور لاشوں کی جلد حوالگی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب غزہ پر اسرائیل کی بم باری کا سلسلہ تھم نہیں سکا جہاں اتوار کو حملے کے نتیجے میں شمالی غزہ میں ایک فلسطینی شہید ہوگیا۔
الاہلی اسپتال کے مطابق غزہ سٹی کے مضافات شجاعیہ کی سبزی منڈی کے قریب ہونے والی بم باری سے ایک فلسطینی شہید ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔