کراچی: عمرہ کی آڑ میں اٹلی جانے کی کوشش کرنے والے 5 افراد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
کراچی ایئر پورٹ پر امیگریشن نے کارروائی کر کے عمرہ کی آڑ میں اٹلی جانے کی کوشش کرنے والے 5 افراد کو گرفتار کر لیا۔
ایف آئی اے کے مطابق پانچوں مسافروں نے سعودیہ سے ایجنٹ کے ذریعے اٹلی کا غیرقانونی سفر کرنا تھا۔ راحید اللّٰہ، عبدالحمید، عبدالشکور، اسماعیل اور احمد اللّٰہ کو پرواز سے آف لوڈ کیا گیا۔
ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ مسافروں کا تعلق، بنوں، پشاور، خیبر اور مہمند کے علاقوں سے ہے، مسافر فلائٹ پی اے 170 سے عمرہ ویزے پر کراچی سے جدہ جا رہے تھے، امیگریشن کلیئرنس کے دوران پانچوں مسافروں کو مشکوک پایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق مسافر پشاور کے مختلف ایجنٹوں سے رابطے میں تھے، مسافروں نے سعودی عرب سے مصر، لیبیا اور پھر غیرقانونی سمندری راستے سے اٹلی جانا تھا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ اٹلی جانے کے لیے مسافروں نے ایجنٹوں سے فی کس 45 لاکھ روپے میں معاملات طے کیے، مسافروں نے ایجنٹوں کو 15 لاکھ روپے فی کس لیبیا پہنچنے پر ادا کرنے تھے۔
مسافروں کو مزید قانونی کاروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مسافروں نے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔