عمرہ پر جانے سے روکنے کا معاملہ، شیخ رشید نے توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک: سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے توہین عدالت کی درخواست لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں دائر کر دی۔
شیخ رشید احمد نے درخواست اپنے وکیل سردار عبدالرزاق خان کے ذریعے دائر کی۔
گزشتہ روز شیخ رشید احمد عمرہ کی ادائیگی کے لیے روانہ ہونا تھا تاہم انہیں ایئر پورٹ پر روک دیا گیا۔ عدالتی حکم ہونے کے باوجود امیگریشن حکام نے عمرہ پر سفر کرنے کی اجازت نہیں دی۔
واٹس ایپ صارفین کیلئے خوشخبری ,اب بغیر فون نکالے ایپ استعمال کرنا ممکن
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان نے انہیں عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانہ ہونے کی اجازت دی تھی۔
توہین عدالت پٹیشن کی سماعت پیر 10 نومبر کو ہوگی۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔