لاہور (خصوصی نامہ نگار) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خا ں نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد کو آئندہ ستائیسویں آئینی ترمیم میں شامل کر کے مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ دیا جانا چاہیے تاکہ اختیارات حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقل ہوں اور زیادہ سے زیادہ لوگ گورننس کے عمل میں شریک ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وفاق مالیاتی دباؤ محسوس کرتا ہے تو صوبوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے قابلِ عمل فارمولہ طے کیا جانا چاہیے۔ پندرہ سو پبلک آفیسرز پچیس کروڑ لوگوں کی گورننس کا نظام نہیں چلا سکتے، اس لیے بلدیاتی ڈھانچا مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار سپیکر ملک محمد احمد خاں نے لاہور میں یونیک گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے زیر اہتمام انٹر سکول سپیچ کمپیٹیشن 2025ء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیئرمین پروفیسر عبد المنان، وائس چیئرمین پروفیسر افیف اشفاق، پروفیسر امجد علی خان اور پروفیسر وسیم انور بھی موجود تھے۔ ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ آئی ٹی نے علم کے حصول کو آسان بنا دیا ہے۔ آج کے طلبہ زیادہ باخبر اور تیز فہم ہیں۔ اب کوئی بھی بات لمحوں میں تصدیق کی جا سکتی ہے۔ ملک میں میرٹ کا بہت ذکر ہوتا ہے لیکن جب نجی اور سرکاری سکولوں میں وسائل اور ایک بچے پر خرچ میں واضح فرق ہو تو حقیقی میرٹ کیسے قائم رہے گا؟ صحافیوں کی جانب سے کئے گئے سوالات کے جواب میں سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ مجوزہ آئینی ترمیم سے عدلیہ کی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ملک محمد احمد نے کہا

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن