اجتماع عام عوام کے اندر سے مایوسی کا خاتمہ کرے گا ، احمد
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی ٹنڈوجام حافظ غیور احمد نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کا اجتماع عام عوام کے اندر سے مایوسی کا خاتمہ کرکے گا اور اس کرپٹ نظام کو تبدیل کرنے کا زریعہ بنے گا۔ انہوں نے یہ بات کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا تمام کارکنان اجتماع عام میں عوام کی شرکت کے لیے رات دن محنت کر کے اسے پیغام کو ہر گلی محلے اور بازاروں تک پہنچائیں اس وقت عوام حکمرانوں کے ظلم وستم اور نا اہلی سے تنگ آ چکی ہے اور مایوسی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا اب عوام کی سمجھ میں آرہا ہے کہ جماعت اسلامی کو اسٹیبلشمنٹ نے اسمبلیوں سے دور کیوں رکھا تھا کیونکہ کہ تمام سیاسی جماعتیں ان کی پیداوار اور ان کے حکم کی غلام ہیں سوائے جماعت اسلامی اور اگر آج جماعت اسلامی اسمبلیوں ہوتی تو عوام کے حقوق پر کسی کو ڈاکا مارنے کی جرأت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا اس وقت اجتماع عام مایوس عوام کے لیے ایک اُمید کی کرن ہے اور اس اجتماع عام سے جو نظام بدل دو کی تحریک شروع ہو گی تو پھر وہ اپنی منزل پرپہنچ کر دم لے گی۔ انہوں نے کہا اجتماع عام اس ظالم کے نظام کو ختم کرنے کی جدوجہد کا آغاز ہو گااجتماع سے ناظم سٹی کونسلر طاہر اسامہ غریب آباد مظفرآباد کے ناظم عبدالحمید شیخ جنرل سیکرٹری پروفیسر راو طارق پروفیسر حماد علی بہادر سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی انہوں نے کہا عوام کے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔