اجتماع عام جلسہ نہیں انقلاب اسلامی کی پکار ہوگا ، جماعت اسلامی اٹک
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اٹک (وقائع نگارخصوصی) پاکستان کو اس کی منزل پر پہنچا کر دم لیں گے بدل دو موجودہ فرسودہ ظالمانہ نظام کو کل پاکستان اجتماع عام 21 تا 23 نومبر لاہور مینار پاکستان کے سائے تلے منعقد ہو گا یہ جلسہ عام نہیں بلکہ انقلاب اسلامی کی پکار ہوگا ایسا نظام قائم کریں گے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق عدل و انصاف امانت دیانت پر قائم ہو جس میں مملکت واقعی اسلامی فلاحی ریاست کہلانے کی مستحق ہو جماعت اسلامی ایک فرقہ نہیں بلکہ دینی سیاسی جماعت ہے اجتماع عام کا سلوگن”بدل دو نظام”ان شاء اللہ عوام اٹھے گی اور نظام بدلے گا۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی سیکرٹری جنرل پنجاب شمالی اور سابق امیدوار قومی اسمبلی حلقہ این اے 49و رکن مرکزی مجلس عاملہ جماعت اسلامی پاکستان اقبال خان، پروفیسر محمد وقاص خان اور مولانا عبدالستار نے جماعت اسلامی اٹک کے ضلعی تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔تربیتی اجتماع سے نائب امیر ضلع حافظ مولانا جابر علی خان اور اور ضلعی سیکرٹری جنرل حافظ محمد بلال نے بھی خطاب کیا۔ اقبال خان نے کہا پاکستان کو ہم حقیقی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں جہاں فرقہ واریت اور مسلک کی قید نہ ہو جہاں نیکی میں تعاون اور بدی سے نفرت ہو عدل و انصاف اور امانت و دیانت داری ہو ظالم اور اس کے ظلم سے نفرت ہو جماعت اسلامی ایک فرقہ نہیں دینی سیاسی جماعت ہے جو اپنا کام زیر زمین نہیں بلکہ برسر عام کرتی ہے اس کے کارکنان و ارکان اپنے امیر کی اطاعت، خدا خوفی اور دینی تقاضوں کے مطابق کرتے ہیں مومن مسلمان عوام کو حکمت کے ذریعے دین اسلام کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے ابھارتے ہیں یہ سارے کام اللہ کی خوشنودی کے لیے بغیر کسی لالچ کے کرتے ہیں۔ پروفیسر محمد وقاص خان نے کہا کہ حکومت بدلتی رہیں چہرے اور جھنڈے بدلتے رہے نہیں بدلا تو انگریز کا دیا ہوا نظام نہ بدلا جو ہمارا اصل دشمن ہے لارڈ میکالے کا نظام تعلیم ہو،عدالتی نظام ،پولیس ایکٹ، بیوروکریسی کا ڈھانچہ اور انتخابی نظام یہ سب غلامی کی زنجیریں ہیں جو ہماری گردنوں میں پڑی ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں جو مراعات ان کو دی جا رہی ہے ایسے لگتا ہے کہ پاکستان امیر ترین ملکوں میں سے ایک ہو لیکن کارکردگی زیرو افسوس کا مقام ہے کہ ملک کی بہبود کی خاطر جو دستور 56 1962 اور 1973ء میں وجود میں آئے ان میں بھی غلامی کی ان زنجیروں کو برقرار رکھا گیا حالانکہ ان دستاویز کو بناتے وقت طے کیا گیا تھا کہ جلد نئے قوانین بنائیں گے لیکن ایسا نہ ہوا اس لیے جماعت اسلامی نے اپنے اجتماع عام کا ماٹو اور سلوگن” بدل دو نظام” رکھا ان شاء اللہ عوام اٹھے گی اور نظام بدلے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔