اسحاق ڈار کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی بین الوزارتی کمیٹی کا اجلاس، سفارتی کارکردگی کا جائزہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی بین الوزارتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں حکومت کی کارکردگی، خصوصاً بیرونِ ممالک پاکستانی مشنز کے امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق اجلاس میں کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ نے اس موقع پر پاکستان کے سفارتی کردار کو مزید مؤثر بنانے اور مشنز کی کارکردگی کو قومی حکمتِ عملی کے اہداف سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان سعودی تعلقات نئے دور میں داخل، اسحاق ڈار کا ریاض میں سفارت خانۂ پاکستان کا دورہ
انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک پاکستانی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے مابین ہم آہنگی اور اشتراکِ عمل کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔
اجلاس میں وزیرِ پٹرولیم، وزیرِ مملکت برائے ریلوے، قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین، معاونِ خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ، سیکرٹری کابینہ، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ سیکرٹری تجارت، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری ایچ آر اینڈ ڈی، سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن سمیت وزارتِ خزانہ، اطلاعات اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار سفارتکاری نائب وزیراعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار سفارتکاری اسحاق ڈار
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔