وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی زیر صدارت سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی کے حوالے سے اہم اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
اجلاس بحالی کے اقدامات میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا، جس میں تمام فریقین نے متاثرہ کمیونٹی کی بحالی اور ان کی زندگیوں کی تعمیرِ نو کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا مظاہرہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی زیرِ صدارت وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں تالی داس، راویشن، حکیس اور حکیس ٹھنگی کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعمیرِ نو کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس اجلاس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی جن میں سرکاری حکام، آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کے نمائندے، اقوام متحدہ کے ادارے، اور متاثرہ برادری کے اراکین شامل تھے۔ اجلاس میں نمایاں شخصیات نے شرکت کی، جن میں سینئر وزیر برائے محمکہ مواصلات و تعمیرات عامہ، ایڈیشنل سیکرٹری برائے محکمہ مواصلات و تعمیرات عامہ امین غزنوی، سیکریٹری برائے ترقیات، سیکریٹری CMIT، سیکریٹری واٹر مینجمنٹ، ہوم ڈیپارٹمنٹ، فنانس ڈیپارٹمنٹ، صدر اسماعیلی نیشنل کونسل برائے پاکستان، صدر اسماعیلی ریجنل کونسل، گپیس یاسین، چیف ایگزیکٹو آفیسر آغا خان فاؤنڈیشن (AKF)، چیف ایگزیکٹو آفیسر آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ (AKAH)، جنرل منیجر آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP)، ایچ بی ایل فاؤنڈیشن، ڈپٹی کمشنر غذر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گپیس یاسین، اور ڈپٹی ڈائریکٹر گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ شامل تھے۔ یہ اجلاس بحالی کے اقدامات میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا، جس میں تمام فریقین نے متاثرہ کمیونٹی کی بحالی اور ان کی زندگیوں کی تعمیرِ نو کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا مظاہرہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔