اساتذہ قوم کی فکری، اخلاقی اورتعلیمی تعمیر کے معمار ہیں، رئیس منصوری
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) اساتذہ قوم کی فکری، اخلاقی اور تعلیمی تعمیر کے اصل معمار ہیں۔ تنظیم اساتذہ پاکستان ملک بھر میں اساتذہ کی تربیت، طلبہ کی کردار سازی، اور تعلیمی نظام کی اصلاح کے لئے مسلسل جدو جہد کررہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار صدر تنظیم اساتذہ پاکستان صوبہ سندھ پروفیسر رئیس احمد منصوری نے ٹنڈوآدم کی نجی ہوٹل میں تنظیم اساتذہ ضلع سانگھڑ کے تحت سندھ تعلیمی کانفرنس منعقدہ راشد آباد کی شاندار کامیابی پر پروفیسر رئیس احمد منصوری، انکی صوبائی ٹیم اور تعلیمی کانفرنس میں شریک اساتذہ کے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا، پروفیسر رئیس احمد منصوری نے کہا کہ تنظیم کی ترجیحات میں اساتذہ کی پیشہ وارانہ تربیت کا جدید نظام، نصابی و اخلاقی بحالی، فرائضں کی ادائیگی اور اساتذہ کے جائز حقوق کا حصول شامل ہے۔ انہوں نے اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو عبادت سمجھ کر انجام دیں، کیونکہ تدریس پیغمبری پیشہ ہے اور قوموں کی تقدیر اساتذہ کے کردار سے لکھی جاتی ہے تنظیم اساتذہ پاکستان اپنی تعلیمی واخلاقی خدمات کے ذریعے پاکستان کے روشن تعلیمی مستقبل کی بنیاد مضبوط کررہی ہے۔ انہوں نے اساتذہ سے کہا وہ تنظیم اساتذہ پاکستان کا دست بازو بنیں۔ پروفیسر رئیس احمد منصوری نے سندھ تعلیمی کانفرنس کے کامیاب ہونے پر اساتذہ کو مبارک باد دی۔ صدر تنظیم اساتذہ ضلع سانگھڑ پروفیسر احمد بلال غوری نے استقبالیہ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا تنظیم اساتذہ پاکستان اساتذہ کی منظم ملک گیر تنظیم ہے۔ اسکا قیام 1969 میں آیا اور آج تک تنظیم اساتذہ پاکستان اساتذہ کی تربیت، فلاح و بہبود اور انکے بنیادی حقوق کے لیے جدو جہد کررہی ہے۔ استقبالیہ تقریب میں صدر تنظیم اساتذہ ضلع حیدرآباد جاوید اخلاق قریشی، صدر تنظیم اساتذہ ضلع میرپور خاص عمر فاروق ودیگر بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پروفیسر رئیس احمد منصوری تنظیم اساتذہ پاکستان صدر تنظیم اساتذہ تنظیم اساتذہ ضلع اساتذہ کی
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔