وزن میں اتنی بڑی تبدیلی کیسے ہوئی؟ کرن جوہر نے خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
بھارتی فلم ساز کرن جوہر نے اپنے وزن میں حیرت انگیز کمی سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں پر ردِعمل دے دیا۔
کرن جوہر حال ہی میں ٹوئنکل کھنہ اور کاجول کے شو میں شریک ہوئے، جہاں اداکارہ جھانوی کپور بھی مہمان تھیں۔ دورانِ گفتگو ٹوئنکل نے کرن کے اچانک وزن کم کر کے دُبلا پتلا ہونے پر مزاحیہ انداز میں اُنہیں چھیڑا، جس پر محفل قہقہوں سے گونج اٹھی۔
کرن جوہر نے ہنستے ہوئے کہا، ’’لوگ سمجھتے ہیں کہ میں کچھ دوائیں جیسے اوزیمپک استعمال کرتا ہوں، اسی لیے کھانا نہیں کھاتا۔‘‘
اس پر ٹوئنکل نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا، ’’بیٹا، اتنے انجیکشن مت لیا کرو! اتنا دبلا ہو گیا ہے، ممی کیا بولے گی؟‘‘ جس پر کرن نے ہنستے ہوئے کہا، ’’ممی تو آج کل کچھ نہیں کہتی‘‘۔
یاد رہے کہ کرن جوہر کے وزن میں نمایاں تبدیلی گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے، جہاں مداحوں نے مختلف قیاس آرائیاں کیں۔ تاہم کرن نے واضح کیا کہ اُن کی فٹنس کا راز کسی دوا یا انجیکشن میں نہیں بلکہ منظم غذا، ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی میں ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں کرن جوہر نے بتایا تھا کہ ان کہ وزن میں بڑی تبدیلی ایک مشہور ڈائیٹ پلان ’اومیڈ‘ یعنی ’ون میل آ ڈے‘ کی وجہ سے آئی ہے وہ 24 گھنٹوں میں صرف ایک بار کھانا کھاتے ہیں تاہم صحت بخش غذاؤں کا انتخاب کرتے ہیں جس سے وزن میں حیرت انگیز کمی ممکن ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرن جوہر نے
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔