ایف بی آر کی نئی ویلیوایشن، اسلام آباد کے پوش علاقوں میں زمینوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے وفاقی دارالحکومت میں زمینیوں کی نئی قیمتوں کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے بعد اسلام آباد کے پوش علاقوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ایف بی آر نے رہائشی، کمرشل اور دیہی علاقوں کے لیے 68 مقامات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔اسلام آباد کے نئے ہاؤسنگ منصوبوں اور پوش علاقوں جیسے سیکٹر ای سیون، ایف سیون، ایف سکس اور ایف ایٹ میں ویلیوایشن ریٹس میں نمایاں اضافہ ہو گیا۔اسلام آباد میں املاک کی قیمت پر نظرثانی کے بعد کچھ علاقوں کی قیمتیں کم بھی کی گئی ہیں۔ایف بی آر کے جاری ایس آر او کے مطابق، غیر منقولہ جائیدادوں کی نئی ’منصفانہ مارکیٹ ویلیو‘ مقرر کر دی گئی ہے۔نئے ایس آر او کے مطابق ایسی رہائشی اور کمرشل عمارت جن کا اسٹرکچر پانچ سال پرانا یا اس سے کم ہو ان کی ویلیو 4000 روپے فی مربع فٹ ہو گی، اگر عمارت کا اسٹرکچر پانچ سال سے پرانا ہو ان کی ویلیو 3000 روپے فی مربع فٹ مقرر کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔