واشنگٹن میں افغان شہری کے حملے میں امریکی اہلکار ہلاک؛ طالبان کا پہلا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
واشنگٹن میں سرعام فائرنگ کرکے ایک سیکیورٹی گارڈ کو ہلاک اور دوسرے کو شدید زخمی کرنے والے افغان شہری سے متعلق طالبان حکومت نے پہلی بار وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر متقی نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا ہے۔
جس میں امیر متقی نے واشنگٹن میں گزشتہ ہفتے پیش آنے والے حملے سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے جس میں 2 امریکی نیشنل گارڈز نشانہ بنے تھے۔
طالبان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ یہ حملہ ایک ایسے شخص نے کیا جسے خود امریکی اداروں نے تربیت دی تھی اور اسے استعمال بھی کیا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس لیے اس شخص یا اس کی کسی حرکت کو افغان حکمت یا عوام سے جوڑنا درست نہیں۔ یہ ملزم کا انفرادی طور پر کیا گیا ذاتی عمل تھا۔
طالبان وزیر خارجہ امیر متقی نے کہا کہ امریکی ادارے سے تربیت یافتہ یہ شخص ہماری حکومت بننے کے بعد افغانستان سے بلا اجازت اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فرار ہوا تھا۔
خیال رہے کہ حملہ آور کو امریکی سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کے تبادلے میں شدید زخمی حالت میں حراست میں لیا تھا اور اس کی شناخت 29 سالہ رحمان اللہ لاکانوال کے نام سے ہوئی۔
امریکی حکام کے ریکارڈ کے مطابق بھی رحمان اللہ افغانستان کی ایک ایسی فورس کا رکن تھا جسے طالبان کے خلاف کارروائیوں کے لیے سی آئی اے کی حمایت حاصل رہی تھی۔
تاہم طالبان حکومت کے قیام کے بعد رحمان لاکانوال اگست 2021 میں افغانستان سے امریکا منتقل ہو گیا تھا۔
امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد اس وقت کے صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ نے اُن افغان شہریوں کو امریکا لانے کا عمل تیز کیا تھا جو امریکی فوج کے ساتھ کام کر چکے تھے۔
اسی پالیسی کے باعث ہی رحمان اللہ لاکانوال بھی افغانستان سے امریکا پہنچا تھا تاہم بعض حکام اس کی آمد کی ذمہ داری ٹرمپ انتظامیہ جبکہ کچھ بائیڈن انتظامیہ پر عائد کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ عدالت نے ملزم پر قتل اور دیگر سنگین الزامات عائد کیے ہیں تاہم ملزم نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔ پراسیکیوٹر اگلی سماعت میں سزائے موت کی درخواست کریں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغانستان سے کیا ہے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔