روزانہ بریڈ آملیٹ کھانا ہماری صحت کیلئے نقصان دہ تو نہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ناشتے میں انڈہ زیادہ تر افراد کی پہلی پسند ہوتا ہے، جسے لوگ اپنے ذائقے اور انداز کے مطابق مختلف طریقوں سے تیار کرتے ہیں۔ کسی کو ہاف فرائی پسند ہے تو کوئی فل فرائی کھانا ترجیح دیتا ہے۔ بعض افراد اُبلا ہوا انڈہ کھاتے ہیں جبکہ کئی لوگ انڈے کا آملیٹ بنا کر ناشتے کا لطف لیتے ہیں۔
بریڈ آملیٹ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں صبح کے فوری اور بھرپور ناشتے کے طور پر کھایا جاتا ہے، آسانی سے تیار ہوجانے والا یہ ہلکا ناشتہ آج کے تیز رفتار طرزِ زندگی میں ایک عام انتخاب ہے، مگر سوشل میڈیا پر غذائیت سے جڑے مباحث نے اس روایتی ناشتے کے فائدے اور نقصانات پر بھی سوال اٹھا دیے ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق مناسب مقدار اور درست اجزاء کے ساتھ تیار کیا جائے تو روزانہ بریڈ آملیٹ کھانا بالکل محفوظ اور صحت بخش ہے۔
ماہرین کے مطابق انڈہ پروٹین، وٹامنز اور معدنیات کا بھرپور ذریعہ ہے، جبکہ ناشتہ دراصل بریڈ کے معیار اور استعمال ہونے والے تیل پر زیادہ منحصر ہوتا ہے۔ صبح پروٹین کا استعمال بھوک کنٹرول کرنے، توانائی برقرار رکھنے اور پٹھوں کی مرمت میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
البتہ غذائیت کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ سفید بریڈ اور زیادہ تیل ناشتہ بھاری بنادیتے ہیں اور فائبر کی کمی کے باعث بھوک جلد واپس آتی ہے۔ صحت مند افراد کے لیے روزانہ ایک انڈے کا استعمال محفوظ سمجھا جاتا ہے، مگر بریڈ کا انتخاب اور پکانے کا طریقہ حقیقی فرق پیدا کرتا ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بریڈ آملیٹ ترک کرنے کی ضرورت نہیں، صرف چند سادہ تبدیلیاں اسے مزید فائدہ مند بنا سکتی ہیں۔ ہول گرین بریڈ، تازہ سبزیوں کا اضافہ اور محدود مقدار میں تیل ناشتے کو نہ صرف ہلکا رکھتا ہے بلکہ غذائیت بھی بڑھا دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق متوازن انداز میں تیار کیا گیا بریڈ آملیٹ دن کی شروعات کو توانائی بخش بنانے کے لیے بہترین انتخاب ہوسکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔