پاکستان اپنی بندرگاہوں کے ذریعے کرغزستان کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کیلئے تیار ہے، وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 4 December, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خشکی میں گھِرے ہوئے ملک کرغزستان کو اپنی بندرگاہوں کے ذریعے علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے یہ اعلان اسلام آباد میں کرغزستان کے صدر سادِر ژاپاروف کے ساتھ ملاقات اور بات چیت کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
صدر ژاپاروف گزشتہ روز 2 روزہ پہلے سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے تھے، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ گزشتہ 20 برس میں کسی کرغیز صدر کا یہ پہلا دورہ ہے۔
آج ہونے والے مذاکرات کی تفصیل بتاتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چونکہ کرغزستان ایک خشکی میں گھِرا ملک ہے، اس لیے پاکستان جمہوریہ کرغز کو کراچی، بن قاسم اور گوادر کی بندرگاہوں کے ذریعے علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کے لیے تیار ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج ہماری نتیجہ خیز بات چیت کے دوران ہم نے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے آج ایک مرتبہ پھر، اور بہت واضح انداز میں، اس امر کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات کو زیادہ بلند سطح تک لے جانے کے لیے سیاسی، تجارتی، رابطہ کاری، توانائی، زراعت، تعلیم، دفاع اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا‘۔
وزیرِ اعظم شہبازشریف نے بتایا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں پر مشتمل ایک بزنس فورم آج بعد میں منعقد ہوگا، جو اقتصادی تعاون کے اہم شعبوں میں عملی اشتراک کے نئے راستے متعین کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ بزنس فورم 20 کروڑ ڈالر مالیت کی ایک مفاہمتی یادداشت کے برابر ہوگا‘، اور موجودہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی باہمی تجارت کو آئندہ دو برس میں بڑھا کر 20 کروڑ ڈالر تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔
دونوں ممالک کی تجارتی مالیت 23-2022 میں ایک کروڑ 12 لاکھ ڈالر سے کم ہو کر 25-2024 میں 51 لاکھ 80 ہزار ڈالر رہ گئی تھی۔
وزیرِ اعظم نے صدر ژاپاروف کو اسلام آباد کو ان کا ’دوسرا گھر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس سے زیادہ خوشی کا کوئی لمحہ ہمارے لیے ہو ہی نہیں سکتا‘۔
انہوں نے کہا کہ 20 سال بعد کسی کرغز صدر کا پاکستان آنا ظاہر کرتا ہے کہ دو برادر ممالک کے درمیان اتنا طویل فاصلہ ناقابل قبول ہے، انہوں نے معزز مہمان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہاکہ لیکن جیسا کہ میں نے کہا اب بھی بہت دیر نہیں ہوئی۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ازلی نوعیت کے ہیں، اور دونوں کے عوام صرف جغرافیے سے نہیں بلکہ صدیوں پر محیط قافلوں، عقائد اور دوستیوں کے رشتوں سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گفتگو کے دوران عوامی رابطوں کو بڑھانے، ثقافتی پروگراموں، سیاحت کے فروغ اور تعلیمی شراکت داری کو مضبوط بنانے پر بھی اتفاق ہوا، اسلام آباد اور پاکستان کے دیگر شہروں میں ثقافتی تقریبات منعقد ہوں گی، جب کہ اسی طرح کے پروگرام بشکیک میں بھی ہوں گے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’آج کی ہماری ملاقات دو بھائیوں کے درمیان ہونے والی ایک عام ملاقات نہیں، بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قدیم قراقرم اور عظیم آلا ٹو پہاڑ ایک دوسرے کو گلے لگا رہے ہوں‘۔
انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ’یہ دورہ دوطرفہ تعلقات میں نئی جان ڈالے گا اور باہمی تعاون کے تمام شعبوں میں مضبوط تحریک فراہم کرے گا‘۔
وزیرِ اعظم نے صدر ژاپاروف اور ان کے وفد کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے عزم کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’اللہ کرے کہ کرغزستان کا روشن سورج اور پاکستان کے چاند تارے کی رہنما روشنی مل کر ہم دونوں ملکوں کے لیے ایک ایسا مستقبل روشن کریں جو ہمارے عوام، خطے اور بالآخر پوری دنیا کے لیے دیرپا امن، مشترکہ خوشحالی اور امید سے بھرا ہو‘۔
صبح وزیرِ اعظم ہاؤس میں صدر ژاپاروف کے اعزاز میں رسمی استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی، جہاں وزیرِ اعظم نے ان کا استقبال کیا، موقع پر مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی اور دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔
علاوہ ازیں، پاکستان اور کرغیزستان نے اسلام آباد میں تجارت، توانائی، صحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے 15 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔
معاہدوں کے تبادلے کی تقریب میں دونوں ممالک کے وزرا، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور صدر ژاپاروف موجود تھے۔
معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں رہنماؤں نے جامع تعاون کے فروغ کے لیے مشترکہ اعلامیہ پر بھی دستخط کیے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’یہ معاہدے نتیجہ خیز شراکت داری اور دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان مضبوط روابط کے لیے فریم ورک کا کام کریں گے‘۔
قبل ازیں، ڈپٹی وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار نے کرغزستان کے صدر سادِر ژاپاروف سے ملاقات کی اور اسلام آباد کی جانب سے دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دفتر خارجہ نے جمعرات کو بتایا کہ صدر ژاپاروف گزشتہ روز پاکستان کے دو روزہ پہلے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ گزشتہ 20 برس میں کسی کرغیز صدر کا پہلا دورہ ہے۔
دفتر خارجہ نے آج ایک پوسٹ میں بتایا کہ اسحٰق ڈار نے صدر سادر ژاپاروف سے ملاقات کی اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ اسحٰق ڈار نے صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی دلی مبارکباد اور نیک خواہشات بھی پہنچائیں۔
انہوں نے اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان–کرغیز تعلقات کو مشترکہ دلچسپی کے ہر شعبے میں مزید مضبوط کیا جائے گا۔

اسحٰق ڈار نے صدر سادر ژاپاروف کو پاکستان کی قیادت کے ساتھ ان کی طے شدہ ملاقاتوں، دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے ساتھ روابط، اور وسیع البنیاد دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے ہونے والی بات چیت کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
گزشتہ روز اسحٰق ڈار نے دفتر خارجہ میں کرغز وزیرِ خارجہ زینبیک کولو بایف کا استقبال بھی کیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے مشترکہ دلچسپی کے شعبوں پر اہم مشاورت کی۔
وزیرِ اعظم کے دفتر کے ایک ذریعے نے بدھ کو ڈان کو بتایا کہ دورے کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی، قدرتی وسائل اور دفاع کے شعبوں میں کئی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہونے کی توقع ہے۔
پاکستان اور کرغز جمہوریہ کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں جو گہری ثقافتی، تاریخی اور روحانی وابستگیوں پر مبنی ہیں۔
دونوں ممالک نے اگست میں کرپٹو کرنسی، بلاک چین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل فنانس میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا تھا۔
جولائی میں دونوں ممالک نے اپنی بین الحکومتی کمیشن کے اجلاس میں دوطرفہ تجارت کو 100 ملین ڈالر تک بڑھانے کے معاہدے کی توثیق کی تھی۔
دوطرفہ تعلقات کے علاوہ پاکستان اور کرغیزستان شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے بھی رکن ہیں، یہ 10 رکنی یوریشیائی سیکیورٹی اور سیاسی تنظیم ہے جس کے دیگر اراکین میں چین، روس، بھارت اور ایران شامل ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان کا دو ماہ بعد اقوام متحدہ کی امداد کے لیے افغانستان کی سرحد کھولنے کا فیصلہ پاکستان کا دو ماہ بعد اقوام متحدہ کی امداد کے لیے افغانستان کی سرحد کھولنے کا فیصلہ وزیر خزانہ کی سربراہی میں این ایف سی کا 11 واں اجلاس، مالی صورتحال پر بریفنگ این سی سی آئی اے کیس: سلمان اعوان اور صارم علی کی ضمانت مسترد، دونوں ملزمان گرفتار نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکی کرغزستان کے صدر سے ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرغز صدر کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں استقبالیہ تقریب، گارڈ آف آنر پیش امریکا میں گرفتار مبینہ پاکستانی دراصل افغان شہری نکلا، دفتر خارجہ کی وضاحت TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بندرگاہوں کے ذریعے تیار ہے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار