سہیل آفریدی اگر نیشنل سیکیورٹی کے راستے میں حائل ہوئے تو ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو گا، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی نے آپریشن میں رکاوٹیں،دہشتگردوں کی سہولت کاری کی توانکا کوئی مستقبل نہیں ہے، اگر سہیل آفریدی تقریروں کی حد تک سیاست کرتے ہیں تو اس کی اجازت ہونی چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کوسابق وزیراعظم کے پروٹوکول کے مطابق بی کلاس اور سہولیات ان کا حق ہے، ملاقات کی حد تک رہیں تو ملاقات سے نہیں روکنا چاہیے، بانی سے ملاقات میں احتجاج،گورنمنٹ کیخلاف تحریک،دہشتگردی سے سہولت کاری سے متعلق لائحہ عمل کیلئے ہے تو ملاقات نہیں ہونی چاہیے، ہماری معلومات کے مطابق فیض حمید سے متعلق فیصلہ اسی دسمبر میں آجائے گا، فیض حمید کی سزا سے متعلق کوئی پیشگوئی نہیں کرنی چاہیے۔
پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات 22 دسمبر 2025 سے 10 جنوری 2026 تک ہونے کااعلان
رانا ثنااللہ کا کہناتھا کہ سی ڈی ایف حساس ،قومی سیکیورٹی سےمتعلق بہت ہی اہمیت کا حامل ادارہ بننےجارہا ہے، چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے عہدہ کیلئےقانون تبدیل کیا گیا، سی ڈی ایف کیلئے ریگولیشنز اور رولز فریم ہونے ہیں، سی ڈی ایف کےرولزکیلئے بہت زیادہ احتیاط درکار ہے ، سی ڈی ایف نوٹیفکیشن میں تاخیرسےمتعلق قیاس آرائیوں میں صداقت نہیں، بیرون ملک سے پاکستان مخالف مواد پھیلانے والے افراد کی فہرست میں اضافہ ہو گا، قومی سلامتی سے متعلق بیرون ملک سے پروپیگنڈا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ، قومی سلامتی سے متعلق پروپیگنڈا کرنے کی کوئی بھی قانون اجازت نہیں دیتا، سہیل آفریدی اگر نیشنل سیکیورٹی کے راستے میں حائل ہوئے تو ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو گا۔
جیل جانے میں کوئی مسئلہ نہیں، اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،ایمان مزاری
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سی ڈی ایف
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔