بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے چھڑی ہوئی نئی بحث مسلسل شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ سکھ، مسلمان اور دیگر اقلیتی برادریوں کے رہنما، ساتھ ہی مختلف انسانی حقوق کی تنظیمیں، وزیراعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہی ہیں۔
ناقدین کے مطابق ریاستی ادارے اور فوج ہندوتوا سوچ کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک کے سیکولر تشخص پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ متعدد اقلیتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس اور مودی حکومت کے باہمی تعلق نے اداروں کے سیاسی استعمال کو بڑھا دیا ہے، جبکہ مذہبی آزادی کے ماحول پر دباؤ مزید محسوس کیا جا رہا ہے۔
رام مندر کی تعمیر اور وہاں فوجی نمائندوں کی موجودگی کو بھی بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی سیاست کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ مذہبی اور سماجی تنظیمیں اس صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد رام مندر کا قیام ملک میں پھیلتے نظریاتی تنازعات کو مزید نمایاں کر رہا ہے۔
ان کے مطابق عسکری قیادت کے مندروں کے دورے اور سرکاری سطح پر ہندوتوا نظریے کی طرف جھکاؤ نے اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا دیا ہے۔ انسانی حقوق کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ بڑھتی ہوئی انتہا پسندی معاشرتی ہم آہنگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور فوری اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ

برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔

جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں ہواؤں کی رفتار کم ہوگئی، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال