ایودھیا میں رام مندر، ہندوتوا پروجیکٹ کی تکمیل پر انتہا پسندوں کا جشن
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
ایودھیا میں رام مندر کی تکمیل کے موقع پر دھواج روہن تقریب منعقد ہوئی، اسی جگہ جہاں 1992 میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا۔ ماہرین اور نقادوں کے مطابق 1992 کے اس حملے کو آر ایس ایس اور وی ایچ پی کے منظم اقدامات کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے، تاہم آج اسے ’تہذیبی فتح‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ نے پہلے بابری مسجد کی شہادت کو غیر قانونی قرار دیا تھا، لیکن زمین کو مندر کو دینے کے فیصلے سے ہجوم کے تشدد کو سزا کے بجائے انعام میں بدل دیا گیا۔ جس مقام پر کبھی اذان کی آواز سنائی دیتی تھی، آج وہاں ہندوتوا کے سیاسی نعرے لگ رہے ہیں۔
ایودھیا ماڈل کے بعد انتہاپسند تنظیمیں دیگر مقامات جیسے گیان واپی اور متھرا میں بھی ’مندر ہونے‘ کے دعوے کر کے دباؤ بڑھا رہی ہیں۔ کئی ریاستوں میں مساجد کے باہر جمعہ اور عید کی نماز روکنے کی مہمیں جاری ہیں، جس سے مسلمانوں کو عبادت گاہوں تک محدود رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، یوپی، ایم پی اور دہلی میں ’بلڈوزر راج‘ کے نام پر مسلمانوں کے گھروں، دکانوں اور بستیوں کا انہدام بھی ہندوتوا پروجیکٹ کا حصہ ہے۔ دہلی فسادات، ٹارگٹڈ لنچنگز اور پولیس کے سامنے ہجوم کے تشدد سے مسلمان مسلسل غیر محفوظ اور مشکوک حالت میں رہنے پر مجبور ہیں۔
گاؤ رکھشا اور ’لو جہاد‘ کے نام پر بے شمار مسلمانوں کو ہجوم نے مارا پیٹا، جبکہ بھارتی ریاست کی خاموشی اس بیانیے کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقریریں، ٹی وی ڈیبیٹس اور سوشل میڈیا مہمات ہندوتوا منصوبے کی انفارمیشن وار کا حصہ بن چکی ہیں۔
منی پور میں عیسائیوں کے خلاف تشدد، گرجا گھروں کو جلانا اور خواتین کی تذلیل، ہندوتوا پروجیکٹ کے بڑے نقشے کا حصہ ہیں، جس میں ہر اقلیت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) کے اقدامات سے مسلمانوں کو بے دخل اور بے وطن بنانے کی طویل المدتی حکمتِ عملی واضح ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آج ایودھیا میں مندر کی تکمیل، بابری مسجد کی شہادت سے شروع ہونے والے ہندوتوا پروجیکٹ کی علامتی تکمیل کے مترادف ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی عمارت نہیں بلکہ مسلمانوں کی تاریخی مسجد کی جگہ پر قائم سیاسی اسٹیٹس سمبل ہے، جس کے پیچھے آر ایس ایس کا پورا نظریاتی ایجنڈا کارفرما ہے۔
عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس عمل کو سمجھے، کیونکہ بابری مسجد سے رام مندر تک کا سفر بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے ایک خطرناک مثال بن چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایودھیا رام مندر ہندوتوا پروجیکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایودھیا
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں