دنیا بھر میں اِس وقت مذہبی، لسانی، نسلی اور علاقائی تعصبات ایک غالب ٹرینڈ کا حصہ نظر آتے ہیں اور اِن تعصبات کو ہوا دینے میں سوشل میڈیا ایک بنیادی عمل انگیز کا کام کرتا ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں اپنے ہاں اِس طرح کی منافرتوں کو لے کر پریشان اور اُن کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔

ملائیشیا کی حکومت نے گزشتہ سال اِسی حوالے سے ایک 4 سالہ منصوبہ بنایا جس میں انتہا پسندی کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات کی بات کی گئی ہے۔ یہ منصوبہ اِس حوالے سے قدرے مختلف نظر آتا ہے کہ اِس میں معاشرے کے تمام طبقات اور اداروں کو ہم آہنگ کیا گیا ہے۔

مُلک میں پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کے لیے ملائیشیا کی حکومت نے 2024 میں 4 سالہ مدّت کے لیے (ملائیشین ایکشن پلان آن پریونٹنگ اینڈ کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم) متعارف کرایا ہے جس میں سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ اُن اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن کے ذریعے سے پُرتشدد انتہا پسندی کا سوشل میڈیا پر مقابلہ کرنا اور مسئلے کی جڑ کے حوالے سے کام کرنا شامل ہے۔

مزید پڑھیں: ملائیشیا کے قریب روہنگیا مہاجرین کی کشتی ڈوب گئی، 7 ہلاک، سینکڑوں لاپتا

اس منصوبے کا مقصد انتہا پسند نظریات کو روکنا، ان کا مقابلہ کرنا اور اُن سے متاثرہ افراد یا ریڈیکلائزڈ لوگوں کی بحالی اور معاشرے میں اُن کی شمولیت ہے۔ منصوبہ ایک جامع نقطہ نظر اپناتا ہے، یعنی وہ صرف مذہبی انتہاپسندی نہیں دیکھتا بلکہ سیاسی، نسلی، مذہبی اور بیرونی رجحانات کو بھی ایک خطرے کی صورت میں دیکھتا ہے۔

اس منصوبے کے 4 ستون ہیں:

روک تھام: اس میں تعلیمی، سماجی اور معاشرتی مداخلت شامل ہے تاکہ انتہا پسندی پیدا ہونے ہی نہ پائے۔

نفاذ: قانونی اور حکومتی اقدامات کے ذریعے انتہا پسندانہ سرگرمیوں پر کارروائی کرنا۔

بحالی: انتہا پسندی کی زد میں آ چکے افراد کو دوبارہ معاشرے میں شامل کرنے، ان کا نظریاتی اور نفسیاتی علاج کرنے پر زور۔

 تقویت: سماجی، ثقافتی اور اخلاقی اقدار کو مضبوط کرنا، اور ایسے پلیٹ فارمز بنانا جو ایک معتدل اور شمولیتی معاشرے کو فروغ دیں۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی دورہ ایشیا کے دوران ملائیشیا آمد، ایئرپورٹ پر رقص کرتے ہوئے ویڈیو وائرل

منفرد خصوصیات

مائی۔ پی سی وی ای ’سخت‘ اور ’نرم‘ یعنی ہارڈ اور سافٹ دونوں طرح کے طریقے استعمال کرتا ہے: قانون سازی اور نفاذ کے اقدامات کے ساتھ ساتھ معاشرتی پہلوؤں پر بھی کام کرے گا۔ یہ منصوبہ مختلف اسٹیک ہولڈرز جیسا کہ وزارتیں، حکومتی ادارے، سول سوسائٹی، این جی اوز، مذہبی اور نسلی برادریوں کو شامل کرکے تیار کیا گیا ہے تاکہ معاشرے کے طبقے کی شمولیت سے اِسے کامیاب بنایا جا سکے۔

اس منصوبے کی اہم خاصیت اس میں ’مدنی‘ تصور کو اجاگر کیا گیا ہے، یعنی اخلاق، اقدار اور معاشرتی تعلقات کو مضبوط کرنے کے حوالے سے حکمتِ عملی وضع کی گئی ہے۔

یہ منصوبہ ملائیشین حکومت کی دیگر متعلقہ پالیسیوں اور اقدامات کے ساتھ ہم آہنگ کرکے بنایا گیا ہے، جیسا کہ شیئرڈ پراسپیرٹی ویژن 2030 اور نیشنل سیکیورٹی پالیسی وغیرہ۔

منصوبے کے حوالے سے اہم بیانات اور حکومتی نکتہ نظر

ملائشین وزیرِاعظم انور ابراہیم نے اس منصوبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں فوری اور بہتر نگرانی کی ضرورت ہے، خاص طور پر اسکولوں، سیاسی حلقوں اور گروپوں میں، تاکہ ممکنہ تشدد یا انتہا پسندی کو ابتدائی سطح پر پکڑا جائے۔ صرف دہشتگردی کی کارروائیوں کو روکنا کافی نہیں، ہمیں ان عناصر کے نظریاتی محرک یا آئیڈلاجیکل ڈرائیورز کو سمجھنا ہوگا جو تشدد کی جانب لے کر جاتے ہیں۔

ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ ملائشیا کا یہ ایکشن پلان دوسرے ممالک کے ماڈلز سے مختلف ہے کیونکہ یہ مقامی اقدار، اصولوں اور ریاستی مظبوطی کو مدِ نظر رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملائیشیا کے ہم منصب انور ابراہیم کا ٹیلیفونک رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر گفتگو

شمولیت اور شفافیت

ملائشیا میں ایک ’ون اسٹاپ پورٹل‘ بھی ہے جہاں پی سی وی ای سے متعلق معلومات، تربیتی وسائل، تحقیق اور عوامی آگاہی کے مواد فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کے پہلوؤں پر زور دینے کی وجہ سے، یہ منصوبہ عوامی سطح پر قبولیت اور عوامی شمولیت کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے، اور اِس کا انحصار صرف اور صرف سخت سیکیورٹی مداخلت پر منحصر نہیں ہے۔

پاکستان مائی۔پی سی وی ای منصوبے سے کیا سبق حاصل کر سکتا ہے؟

ملائشیا کا یہ ایکشن پلان پاکستان میں پرتشدد انتہا پسندی کے چیلنجز سے نمٹنے میں ایک ماڈل ثابت ہو سکتا ہے جیسا کہ:

جامع حکمتِ عملی اپنانا

پاکستان میں عموماً انسدادِ دہشتگردی حکمتِ عملی زیادہ تر قانون سازی اور سکیورٹی کے نفاذ تک مرکوز رہتی ہے۔ ملائشیا کا ماڈل بتاتا ہے کہ روک تھام، بحالی، تقویت یا ری انفورسمنٹ سبھی عناصر اہم ہیں۔ پاکستان اس ماڈل کو اختیار کرکے صرف قانونی یا سیکیورٹی کارروائی کے بجائے انتہا پسندی کی جڑ (نظریاتی اور سماجی عوامل) پر بھی توجہ دے سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: کوالالمپور: 13واں سلطان آف جوہر ہاکی کپ، پاکستان نے ملائیشیا کو 2-7 سے شکست دیدی

سول سوسائٹی اور مقامی شراکت

مائی۔پی سی وی ای منصوبے میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا گیا ہے، جن میں غیر سرکاری تنظیمیں، مذہبی ادارے اور مقامی برادریاں شامل ہیں۔ پاکستان بھی اپنی نوجوان آبادی، تعلیمی اداروں، مذہبی تنظیموں اور این جی اوز کو شامل کرکے کام کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے تاکہ انتہا پسندی کے وجوہات کو ختم کیا جائے۔

آن لائن اور آف لائن مداخلت

ملائشیا نے اس سلسلے میں سافٹ اپروچ اپنائی ہے، اس میں آگاہی مہمات، تعلیم، مذہبی مکالمے اور معاشرتی اقدار پر مبنی تربیت شامل ہیں۔ پاکستان میں بھی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر انتہا پسندانہ بیانیے کو چیلنج کرنے کے لیے اسی قسم کی مہمات چلائی جا سکتی ہیں، اور اسکولوں کے نصاب میں ایسے موضوعات شامل کیے جاسکتے ہیں جو تنوع، برداشت اور مکالمہ پر زور دیں۔

بحالی پروگرامز مضبوط بنانا

پاکستان میں ایسے افراد جو کسی حد تک نظریاتی انتہا پسندی کی طرف مائل ہو چکے ہیں، اُنہیں واپس معاشرے میں واپس لانے کے لیے دینی، نفسیاتی اور تربیتی بحالی پروگرامز شروع کیے جائیں۔ ملائشیا کی مثال بتاتی ہے کہ صرف سزا دینا کافی نہیں ہے۔ نقطہ نظر بدلنے اور سماج سے دوبارہ جڑنے کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔

مزید پڑھیں:وزیراعظم کا دورۂ ملائیشیا مکمل، داتو سری انور ابراہیم نے الوداع کیا

پالیسی اور قانونی ہم آہنگی

پاکستان اپنی قومی سیکیورٹی پالیسی، اندرونی سلامتی حکمتِ عملی اور علاقائی تعاون مثلاً جنوبی ایشیا یا اسلامی ممالک کے ساتھ مائی۔پی سی وی ای طرز کے منصوبوں کو ہم آہنگ کرسکتا ہے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ قانونی اقدامات (نفاذ) اور پالیسی اقدامات متوازی چلنے چاہیئں چلیں۔

مانیٹرنگ اور تشخیص

 مائی۔ پی سی وی ای کی طرح، پاکستان کو اپنے اقدامات کی مؤثر مانیٹرنگ اور تشخیص کا نظام قائم کرنا چاہیئے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کون سی حکمتِ عملی مؤثر ہے اور کہاں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

mypcve malaysia پاکستان پُر تشدد انتہاپسندی ملائیشیا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان پ ر تشدد انتہاپسندی ملائیشیا انتہا پسندی کی ملائیشیا کے پاکستان میں کے حوالے سے پی سی وی ای مزید پڑھیں کیا گیا ہے یہ منصوبہ روک تھام سکتا ہے کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا

تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کے لیے 232 رنز کا ہدف دے دیا۔لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں پاکستان کے کپتان شاہین آفریدی نے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔مہمان ٹیم نے پہلےکھیلتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹ پر 231 رنز اسکور کیے۔آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین 53، جوش انگلس 51 اور میٹ رنشا 43 رنز بنا کر نمایاں رہے۔پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین آفریدی نے 3 جب کہ حارث رؤف ، عرفات منہاس اور ابرار احمد نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف پہلا ون ڈے جیتنے والی ٹیم کو ہی برقرار رکھا ہے۔خیال رہے کہ پہلے ایک روزہ میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹ سے شکست دی تھی، تین ایک روزہ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں