تیجس طیارہ حادثے نے بھارت کی برآمدات کی امیدوں پر پانی پھیر دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
دبئی میں جاری ایئرشو کے دوران بھارت کا جنگی طیارہ تیجس گر کر تباہ ہوگیا اور پائلٹ ہلاک ہوگیا، حادثے کے سبب بھارتی فضائیہ کو ایک بار پھر عالمی سطح پر رسوائی کا سامنا ہے جب کہ اس کی دفاعی خود انحصاری اور برآمدات کی جاری کوششوں کے لیے یہ ایک اور دھچکا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دبئی میں انٹرنیشنل ایئرشو جاری ہے جس میں مختلف ممالک کے طیارے اور دیگر آلات پیش کیے گئے۔
شو میں فضائی کرتب دکھاتے ہوئے بھارت کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، طیارے کو حادثہ ایئرشو کے آخری روز پیش آیا جس کے فوری بعد ریسکیو آپریشن شروع کردیا گیا۔
خبررساں ادارے کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا، حادثے کے بعد ایئر شو کو عارضی طور پر معطل کردیا گیا، گرنے والے طیارے کا پائلٹ ہلاک ہوگیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق کچھ دن قبل تیجس طیارے کا آئل بھی لیک ہوا تھا جس کی ویڈیو سامنے آئی تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی فضائیہ نے تیجس کے حادثے اور پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کردی، طیارے کو حادثہ مقامی وقت کے مطابق 2 بج کر 10 منٹ پر پیش آیا۔
دبئی ایئر شو 2025 کی ویب سائٹ کے مطابق اس میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد اور 1500 کمپنیوں نے شرکت کی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین نے کہا کہ عوامی سطح پر ایسا نقصان بھارت ان کوششوں کو ’دھندلا‘ کردے گا کہ وہ جیٹ کو بیرون ملک متعارف کرائے جب کہ یہ طیارہ ان کی 4 دہائیوں کی محنت کے بعد تیار کیا گیا تھا۔
امریکی میچل انسٹیٹیوٹ فار ایروسپیس اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈگلس اے برکی نے ایئر شوز میں ہونے والے سابقہ حادثات کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ایک حادثہ بالکل الٹ اور ناکامی کا پیغام دیتا ہے، اب تیجس کو منفی تشہیر ملے گی، فائٹر طیاروں کی فروخت کے بڑے آرڈرز اہم سیاسی حقائق کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور کسی ایک وقتی واقعے سے وہ زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔
تیجس پروگرام 1980 کی دہائی میں شروع کیا گیا جب بھارت نے پرانے سوویت MiG-21s کی جگہ انہیں شامل کرنے کی کوشش کی، MiG-21s کا آخری طیارہ ستمبر میں ریٹائر ہوا، جب کہ ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) کی جانب سے تیجس کی ترسیل سست تھی۔
ریاستی ملکیت والی کمپنی نے 180 جدید Mk-1A طیاروں کے لیے ملکی آرڈرز دیے ہیں، لیکن جی ای ایروسپیس کے انجن کی سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے ابھی تک ترسیل شروع نہیں ہو سکی۔
حال ہی میں کمپنی چھوڑ نے والے سابق ایچ اے ایل ایگزیکٹو نے کہا کہ دبئی حادثہ نے ’فوری برآمدات کے امکانات ختم کردیے‘۔
بھارت کی ہددف شدہ مارکیٹس میں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا شامل تھے، اور ایچ اے ایل نے 2023 میں ملائیشیا میں بھی دفتر کھولا تھا۔
سابق ایگزیکٹو نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ آنے والے سالوں کے لیے توجہ ملکی استعمال کے لیے فائٹر کی پیداوار بڑھانے پر ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق نے والے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک