دبئی ایئرشو میں تیجس طیارے کا حادثہ، ‘بھارتی طیاروں کی برآمدات کا امکان تقریباً ختم ہوگیا’
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
دبئی ایئرشو کے دوران بھارت کے تیار کردہ ہلکے لڑاکا طیارے تیجس کے حادثے نے عالمی سطح پر بھارت کی دفاعی ٹیکنالوجی کی ساکھ کو دھچکا پہنچایا ہے۔
حادثے میں پائلٹ وِنگ کمانڈر نامنش سیال جاں بحق ہوگئے، جبکہ طیارے کی تباہی نے اس منصوبے کے مستقبل پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: دبئی ایئر شو کے دوران بھارتی جنگی طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ ہلاک
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو پیش آنے والے اس واقعے کی وجہ فوری طور پر سامنے نہیں آسکی، تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے بین الاقوامی شو میں حادثہ بھارت کی برآمدی کوششوں کو شدید متاثر کرے گا۔
امریکا کے مچل انسٹی ٹیوٹ کے ڈگلس برکی نے رائٹرز کو بتایا کہ ‘ایسے ایئر شو حادثات کسی بھی ملک کے دفاعی بیانیے پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔’
رپورٹ کے مطابق تیجس پروگرام 1980 کی دہائی میں روسی ساختہ میگ-21 کی جگہ لینے کے لیے شروع ہوا تھا۔ لیکن انجن سپلائی سمیت مختلف تکنیکی مسائل کے باعث تیاریاں مسلسل تاخیر کا شکار رہیں۔ ہندوستان ایئرو اسپیس لمیٹڈ کے مطابق 180 جدید Mk-1A طیارے ملکی فضائیہ کے لیے آرڈر پر موجود ہیں لیکن سپلائی چین مسائل کے سبب ڈیلیوری ابھی شروع نہیں ہو سکی۔
سابق حکام کا کہنا ہے کہ دبئی حادثہ ’فی الحال برآمدات کے امکان کو تقریباً ختم کر دیتا ہے‘۔
یہ بھی پڑھیے: تیجاس کی تباہی، بھارت کی مجموعی دفاعی صلاحیتوں پر بھی سوال اٹھ گئے
بھارتی فضائیہ 42 کے بجائے صرف 29 اسکواڈرنز پر مشتمل رہ گئی ہے اور میگ-29، جیگوار اور میراج 2000 جیسے پرانے طیاروں کی ریٹائرمنٹ نے خلا مزید بڑھا دیا ہے۔ اسی لیے بھارت فوری ضرورت پوری کرنے کے لیے رافال جیسے اضافی غیر ملکی طیاروں کی خریداری پر غور کر رہا ہے۔
دبئی میں پاکستان بھی نمایاں طور پر موجود رہا اور جے ایف-17 تھنڈر بلاک 3 کے نئے ممکنہ معاہدے کا اعلان کیا، جس سے خطے کی روایتی مسابقت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
jet import india tejas crash برآمدات تیجس جنگی طیارہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برا مدات تیجس جنگی طیارہ کے لیے
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔