ایشوریا رائے کا مودی کو طمانچہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایشوریا رائے نے مودی کے سامنے سچ بول کر مودی کو ایسا دھچکا دیا جو نہ صرف سیاسی محفل میں ہلچل مچا گیا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی طوفان برپا کرگیا۔ ان کی آواز میں تھا وہ پیغام جو ہر دل کو چھو لینے والا، وہی پیغام جس کا مطلب تھا: ’’دیکھو بھئی، دنیا میں صرف ایک ذات ہے، وہ گہری انسانیت کی ذات۔ ایک ہی مذہب ہے، محبت کا، جنگ و جدل کا نہیں۔ ایک زبان ہے، دل کی زبان، جو سب کو جوڑتی ہے، چھیدتی نہیں۔ اور ایک خدا ہے، جو ہر جگہ ہے، ہر دل میں بستا ہے‘‘۔
یہ بات مودی کے اندر چل رہی فرقہ وارانہ تقسیم، ذات پات کے زہر بھرے کھیلوں، اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ایک سیدھا اور گہرا طمانچہ تھا۔ جہاں مودی کا چہرہ سخت اور ناراض اور رنجیدہ تھا، وہیں ایشوریا رائے نے نرم، مگر طاقتور انداز میں بات کی۔ مزید خاص بات یہ ہے کہ ایشوریا کی ساس، جیا بچن، جو خود پارلیمنٹ میں مودی کی سخت ناقد ہیں، بھی مودی سرکار کی ان پالیسیوں کو نہ صرف جھٹلاتی ہیں بلکہ اسے ملک کے اتحاد کے خلاف سمجھتی ہیں۔ یہ منظر بھارت کی سیاسی دنیا میں ایک اہم واقعہ بن گیا، جہاں ایک طرف حکومتی طاقت مذہبی اور ذات پات کی دیواریں کھڑی کر رہی ہے، تو دوسری طرف فنکار ایک دوسرے پیغام کے ساتھ ’’انسانیت کا پل‘‘ تعمیر کر رہے ہیں۔ مودی کے منہ پر ایشوریا کا یہ طمانچہ اس بات کی علامت ہے کہ لوگ اب نفرت اور شدت پسندی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ایشوریا رائے نے تقریر کے بعد مودی کے چرن چھوئے، جب کوئی خاتون مودی کے چرن چھوتی ہے تو مودی دوبارہ اس کے چرن چھوتے ہیں لیکن ایشوریا رائے کے چرن چھونے کے بعد مودی نے ایشوریا کے چرن نہیں چھوئے کیونکہ مودی سوچ رہے تھے کہ ایشوریا نے اس تقریر کے پردے میں ان سے یہ کہا ہے، ’’یہ جو رنگ تمہارے چہرے پر ہے، وہ خوف اور ناراضی کا ہے، لیکن ہم سب وہی رنگ بدل کر محبت اور بھائی چارے کا پیغام بنائیں گے‘‘۔ اسی طرح کے جھٹکوں سے ہی ملک کی سیاسی ہوا بدلتی ہے۔ یہ لمحہ بھارت کی اس کشمکش کا عکس ہے جہاں طاقتور اور سچے دل والا ہر فرد اپنے انداز میں لڑائی لڑ رہا ہے۔ حقوق کی لڑائی، امن کی جنگ، اور محبت کی زبان کی فتح کے لیے۔ یہ صورت حال ایک سیاسی اور سماجی تصویر بناتی ہے جو ہمارے وقت کی ایک سچائی کو سامنے لاتا ہے: ’’کبھی انسانیت کی ذات کو نہ بھولو، محبت کی زبان کو کبھی مت مارو، اور نفرت کے سائے کو ہمیشہ چھٹنے دو‘‘۔ ایشوریا رائے نے ماضی کی خاموشی کو توڑ کر نئی روشنی پھوٹنے دی ہے۔ امید ہے یہ روشنی سب کو اکٹھا کرے گی، نہ کہ تقسیم۔
مودی سرکار کی انتہا پسندی اور مذہبی نفرت کی پالیسیاں بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ نریندر مودی کے زیر قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ہندوتوا نظریہ کو سرکاری پالیسی بنا رکھا ہے، جو اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو بڑھاوا دیتی ہے۔ 2002 میں گجرات کے فسادات وہ واقعہ تھا جس نے مودی کی سیاسی پہچان بنائی، جہاں تقریباً 2 ہزار مسلمان، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، شہید ہوئے۔ اس واقعے میں مودی پر الزام تھا کہ انہوں نے تشدد کو روکنے میں کامیابی نہیں دکھائی اور کچھ معاملات میں اس کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ مودی کی حکومت نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے نظریات کو مضبوط کیا ہے، جو ہندو اکثریتی ریاست بنانے کا خواب دیکھتی ہے۔ اس خواب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت کی مسلمان اقلیت اور پاکستان ہے، مسلمانوں کو مودی حکومت ہمیشہ ملک کا دشمن ظاہر کرتی ہے۔ مسلمانوں کو تعلیم، صحت، اور معاشی مواقع سے محروم رکھنا سرکاری سطح پر معمول بن چکا ہے۔ اس دوران مودی کی حکومتی پالیسیوں جیسے آرٹیکل 370 کا خاتمہ، جو کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتا تھا، کو بھی مسلمانوں کے خلاف ایک فتح کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مودی حکومت کے دور میں گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں کے قتل عام میں اضافہ ہوا ہے، جہاں کئی مسلم نوجوانوں کو گائے کے گوشت
رکھنے کے الزام میں قتل کیا گیا۔ ساتھ ہی، مساجد اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، مسلمانوں کے پوشاک جیسے حجاب کو تعلیمی اداروں میں ممنوع قرار دیا جا رہا ہے، اور مسلم گھروں کو بغیر عدالتی حکم کے توڑا جا رہا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ جیسے متعصب اور ظالم کینہ پرور حکومتی رہنما بھی مسلم مخالف نفرت انگیز تقاریر کرتے رہتے ہیں، جس سے انتہا پسندی کو مزید ہوا ملتی ہے۔ مودی کی نفرت کی سیاست ہر الیکشن میں مسلمانوں اور پاکستان مخالف نعرے بلند کر کے ووٹ حاصل کرنے کی حکمت عملی ہے، جس کا مظاہرہ پلوامہ حملے کے بعد بالاکوٹ میں فضائی حملے کے ذریعے کیا گیا۔ 2014 اور 2019 کے الیکشن میں مسلمانوں کے خلاف لائف لائن گھٹانے اور نفرت انگیز پروپیگنڈے کا دروازہ کھولا گیا، جس سے مسلمانوں کی زندگی ملک میں ایک خونیں اور خوفناک دور سے گزرتی رہی۔ اس نفرت انگیز سیاست نے بھارت کی سیکولر اور جمہوری اساس کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مودی حکومت کی یہ انتہا پسندی نہ صرف ملک کے اندر اقلیتوں کے لیے زندگی کو مشکل بنا رہی ہے بلکہ اس کے خطے کی سلامتی اور پاکستان کے ساتھ تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو بھارت ہی نہیں بلکہ پورے خطے میں امن و امان کا مسئلہ بن جائے گا۔ ایسی سنگین سیاسی اور سماجی صورتحال میں ایشوریا رائے کی تقریر، جس میں انہوں نے کہا کہ ’’دنیا میں صرف ایک ذات ہے، وہ ہے انسانیت کی ذات، ایک ہی مذہب
ہے، محبت کا، ایک زبان ہے، دل کی زبان، اور ایک خدا ہے، جو ہر جگہ موجود ہے‘‘، ایک جرأت مندانہ اور وقت کی ضرورت پر مبنی پیغام ہے۔ انہوں نے مودی کے سامنے بیان کیا کہ ہندوتوا کی بنیاد پر مبنی سیاست نہ صرف اقلیتوں کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ ملک کے اتحاد کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔
ن کے الفاظ مودی کے لیے ایک اخلاقی طمانچہ تھے، جس کا مطلب تھا کہ انتہا پسندی اور نفرت کے راستے سے ہٹ کر محبت اور انسانیت کو اپنائیں۔ اسی طرح ان کی ساس جیا بچن، جو کہ خود پارلیمان میں مودی کی سخت ناقد ہیں، نے بھی مودی حکومت کی پالیسیوں کو ملک کے اتحاد اور جمہوری اقدار کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ یہ دونوں خواتین، جو بھارت کی معروف سیاسی اور ثقافتی شخصیات میں شمار ہوتی ہیں، مودی کے نظریات کے خلاف کھل کر آواز اٹھا رہی ہیں، جو ایک مضبوط علامت ہے کہ بھارت کی سیاسی دنیا میں بھی فرقہ وارانہ سیاست کے خلاف ہمدردی اور احتجاج موجود ہے۔ مودی کی حکومت کے تحت بھارت میں مذہبی، سماجی، اور اقتصادی بنیاد پر اقلیتوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور ایسے حالات میں ایشوریا رائے جیسے فنکار کا مودی کے سامنے انسانی محبت اور یکجہتی کا پیغام دینا ایک طاقتور علامت اور امید کی کرن ہے۔ یہ پیغام بتاتا ہے کہ بھارت میں نفرت کے خلاف اب آواز بلند ہو رہی ہے، اور محبت و انسانیت کی زبان بولنے والے زیادہ ہو رہے ہیں۔ مودی کے چہرے پر ناراضی کے رنگ کے باوجود، ایشوریا رائے کی یہ تقریر بھارت کی موجودہ سیاسی کشمکش میں ایک مثبت روشنی ہے جو نفرت اور انتہا پسندی کی تاریکیوں کو چیر کر امید کی کرن نکالتی ہے۔ یہ وہ پیغام ہے جو بھارت کے لاکھوں شہریوں کے دلوں کی آواز ہے جو ایک پرامن اور متحد ملک کے حق میں ہیں۔ نتیجتاً، ایشوریا رائے کی تقریر اور ان کے بولنے کا انداز نہ صرف مودی کی نفرت پر مبنی سیاست کے خلاف تھا بلکہ ایک ایسی آواز بھی تھی جو ملک میں محبت، بھائی چارے، اور انسانیت کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس پیغام کی روشنی میں ہی بھارت کے مستقبل کی امیدیں جڑی ہوئی ہیں کہ وہ انتہا پسندی اور نفرت سے باہر نکل کر ایک سیکولر، جمہوری اور محبت بھرا ملک بنے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایشوریا رائے نے مسلمانوں کے انتہا پسندی انسانیت کی مودی حکومت جا رہا ہے بھارت کی کی سیاسی اور نفرت دنیا میں مودی کی کے خلاف کی زبان مودی کے کے چرن ملک کے رہی ہے خلاف ا کے لیے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔