Jasarat News:
2026-06-03@01:05:20 GMT

جنرل دیویدی کی چین کو تھپکی پاکستان کو دھمکی

اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل دیویدی نے چانکیہ ڈیفنس ڈائیلاگ میں سوالوں کے جواب دیتے ہوئے پہلی بار پاکستان اور چین کے بارے میں دو مختلف انداز اپنائے ہیں۔ یوں تو چین کے مقابلے میں مونچھ نیچی کرنا ہی بھارت کی قومی پالیسی ہے مگر تب بھی چین کو ایک خطرے کے طور پر دیکھنا اور بیان کرنا اور پاک چین دفاعی تعاون پر خدشات ظاہر کرنا ان کا معمول رہا ہے۔ اس بار بھارتی فوج کے سربراہ اس روایتی زاویۂ نظر سے ہٹتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ جنرل دیویدی نے چین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ حقیقی خط ِ قبضہ ایل اے سی پر صورت حال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور برسوں سے جمی ہوئی برف پگھل گئی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں بھارت اور چین کی فوجوں کے درمیان زمینی سطح پر گیارہ سو بار بات چیت ہوئی جس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ اکتوبر 2024 سے اب تک ہمارے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ یہ بہتری اس لیے ممکن ہوئی کہ ہمارے اپنے سیاسی قائدین کے ساتھ کافی گفتگو ہوئی اور دونوں جانب سے اس پر اتفاق تھا کہ سرحد پر حالات جتنے معمول پر آئیں گے دونوں ممالک کے لیے اتنا ہی اچھا ہے۔

بھارتی آرمی چیف کے مطابق اس عرصے میں زمینی سطح کے مذاکرات کے گیا رہ سو دور ہوئے۔ اوسطاً روزانہ مذاکرات کے تین دور ہوئے۔ پہلے بات چیت کورکمانڈرز کی سطح پر ہوتی تھی مگر اب ہم اسے بٹالین کمانڈر، کمپنی کمانڈر اور پھر زمینی کمانڈروں کی سطح پر لائے ہیں۔ اس بات چیت کا بڑا فائدہ یہ ہوا اگر ہندوستان کی فوج کسی بات پر اعتراض کرتی ہے تو چینی فوج اس پر غور کرتی ہے اور ہمارے اعتراضات دور کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد پاکستان کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بھارتی کمانڈر بھنویں تان کر آنکھیں ماتھے پر سجا لیتے ہیں۔ پاکستان کے بار ے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم ایٹمی جنگ کی دھمکیوں سے بلیک میل نہیں ہوں گے۔ آپریشن سندور ابھی تو فلم شروع ہی نہیں ہوئی صرف ٹریلز دکھایا گیا تھا جو اٹھاسی گھنٹوں میں ختم ہوا۔ اگر پاکستان دوبارہ کوئی حماقت کرتا ہے تو ہندوستان پوری تیاری سے مناسب جواب دے گا۔ جنگ کی مدت کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں۔ یہ اٹھاسی گھنٹے بھی ہوسکتی ہے چار ماہ اور چار سال بھی۔ فوج ہر طرح کے حالات کے لیے تیار ہے۔ ہندوستان دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والوں کے ساتھ بلا تامل یکساں سلوک کرے گا۔ ہندوستان نے ترقی اور آگے بڑھنے کا تہیہ کیا ہے اس کو راہ سے ہٹانے کی کوشش کی گئی تو بلا جھجک کارروائی کرے گا۔

اس گفتگو میں بھارتی فوج کے سربراہ چین اور پاکستان کو الگ الگ ہینڈل کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ چین کے بارے میں بھارت کا فدویانہ رویہ چانکیہ کی فلاسفی کے عین مطابق ہے جس میں طاقتور دشمن کے آگے جھک جانا اور کمزور دشمن کو دبوچنا بہترین حکمت عملی ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں کی مخاصمت کے دوران بھارت کی حکومت اور قیادت اسی فلاسفی پر عمل پیرا رہی۔ کانگریسی راہنماؤں اور مسلمان راہنما اسدالدین اویسی نے پارلیمنٹ میں مودی کی اس پالیسی کا جم کا مذاق اْڑایا کہ وہ چین کو لال آنکھ اور چھپن انچ چوڑا سینہ کیوں نہیں دکھاتے حالانکہ چین لداخ میں بھارتی حدود میں پیش قدمی کررہا ہے مگر مودی اس تنقید اور طنز کے تیروں سے بھی بدمزہ نہ ہوئے اور چین کے بار میں ان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس کے برعکس پاکستان کا ذکر جب بھی ہوا بھارت کے حکمران جھاگ اْگلتے ہی پائے گئے۔ اس پس منظر کے باوجود بھارتی آرمی چیف دو محاذوں کی جنگ کا ذکر کرنے سے کنی کترا گئے جو بہت معنی خیز اور الارمنگ ہے۔

گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں جب سے پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ عملی شکل میں ڈھلنا شروع ہوا تھا تو بھارت کی فوجی حکمت کاروں کی گفتگو میں دو محاذوں کی جنگ کا خوف جھلکتا تھا۔ بھارت کے کسی فوجی سربراہ یا فوجی دماغ کی دو محاذوں کی جنگ کے خدشے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی تھی۔ پچھلے فوجی سربراہ تو کھل کرکہا تھا کہ بھارتی فوج خو د کو دو محاذوں کی جنگ کے لیے تیار کر رہی ہے۔ دو محاذوں کی جنگ کے فوجی ڈاکٹرائن نے اس خوف سے جنم لیا تھا مستقبل میں بھارت کی چین یا پاکستان کے ساتھ جنگ ہوتی ہے تو دوسرا ملک اس میں کود پڑے گا اور اس طرح بھارت کو بیک وقت چین اور پاکستان کے ساتھ لڑنا پڑے گا۔ دو محاذوں کی جنگ کا تصور ہی بھارت کے لیے سوہان ِ روح اور مستقل دردِ سر تھا۔ یہی تصور کسی ممکنہ جنگ میں پاکستان کی مکمل برتری کی ضمانت بھی تھا۔

پاکستان اور بھارت کی حالیہ جھڑپوں میں تین دن تک بھارت نے اپنا اٹھارہ سالہ ہدف پاکستان کے شہری علاقوں میں نشان زدہ مقامات پر حملوں کے ذریعے پورا کیا۔ ممبئی دھماکوں کے بعد سے بھارت براہ راست اور کبھی امریکی مہربانوں کے ذریعے ایسی نمائشی کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا جس سے اس کا ہاٹ پرسیوٹ یعنی گرم تعاقب کا فوجی تصور تکمیل پزیر ہو۔ جواب میں پاکستان اس کارروائی کو خواہ وہ نمائشی ہی سہی اپنی ریڈ لائن قرار دے رہا تھا۔ اٹھارہ برس بعد بھارت نے یہ کارروائی کرلی مگر طاقت کا پانسہ اس وقت پلٹ گیا جب چین کے سیٹلائٹ نظام نے پاکستان کی مدد کی۔ یہ صورت حال بھارت کے لیے پریشان کن اور امریکا کے لیے بھی حیران کن تھی جو مدت دراز سے بھارت کے لیے یہ حق مانگ رہا تھا۔

بھارت کے عسکری ماہر پروین ساہنی مسلسل خبردار کر رہے تھے کہ یہ شاید دو سرحدوں کی باضابطہ لڑائی نہ ہو مگر چین اپنی ٹیکنالوجی اور مہارت پاکستان کو منتقل کرکے اس سے عملی طور پر دو محاذوں کی ہی جنگ بنائے گا۔ حالیہ جھڑپوں میں ایسا ہی ہوا۔ 1962 کی ہند چین جنگ میں بھی چین نے اس کو دو محاذوں کی جنگ بنانے کی کوشش کی تھی اور پاکستان کو کشمیر میں کارروائی کرنے کا پیغام بھیجا تھا مگر امریکا نے درمیان میں آکر تنازع کشمیر حل کرنے کی یقین دہانی کراکے پاکستان کو کسی کارروائی سے روک دیا تھا۔ آج بھی دو محاذوں کی یہ جنگ اور چین اور پاکستان کے درمیان اس نوعیت کا دفاعی تعلق جس سے خطے میں اسٹیٹس کو ٹوٹنے کا خطرہ ہو، امریکا کو قبول نہیں تھا۔ اس لیے وہ پاکستان پر مسلسل یہ دباؤ ڈالے رہے ہیں کہ چین کے ساتھ تعاون کواس سطح پر نہ لے جائیں کہ زمینی حالات میں کوئی عملی تبدیلی رونما ہو۔ اب بھارت پاکستان کے ساتھ کسی ممکنہ جنگ میں چین کو اس انداز سے نیوٹرلائز کرنا چاہتا ہے کہ یہ دو محاذوں کی جنگ میں ڈھلنے نہ پائے۔ ٹیکنالوجی کا توڑ ٹیکنالوجی سے ہو سکتا ہے مگر جب دو ملک عملی طور پر دو اطراف سے کسی ملک پر پل پڑیں تو اس کے لیے اپنا وجود سنبھالنا اور بچانا مشکل ہوجاتا ہے۔ پاکستان جس تیزی کے ساتھ مغربی لابی کے زیر اثر جا رہا ہے اور جس طرح گوادر پورٹ بے رونق اور تجارت کا مرکز بننے سے محروم ہے اس میں یہ سوال اہم ہوجاتا کہ کیا پاکستان اور چین کے تعلقات کا پرانا لیول برقر ار ہے؟۔ بھارت اس تعلق کو منہ میں رام رام کے ذریعے اس انداز سے کمزور کررہا ہے کہ یہ تعلق اور تعاون اس کے لیے ایک دیوہیکل چیلنج بن کر سامنے نہ آئے۔ بھارتی آرمی چیف کا یہ بدلا ہوا انداز اسی حکمت عملی کا مظہر ہے۔

عارف بہار سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دو محاذوں کی جنگ اور پاکستان بھارتی فوج پاکستان کو پاکستان کے میں بھارت بھارت کے بھارت کی کے ساتھ اور چین کے بار چین کے کے لیے چین کو رہا ہے

پڑھیں:

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی

پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔

اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔

مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔

مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔

مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی