Nawaiwaqt:
2026-07-24@01:13:58 GMT

تمام شہروں میں شفاف بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں: حافظ نعیم

اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT

تمام شہروں میں شفاف بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں: حافظ نعیم

لاہور (نوائے وقت رپورٹ) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے لاہور مینار پاکستان میں اجتماع کے دوسرے روز سیشن کے آغاز میں لاکھوں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ خاندان، وصیت اور وراثت میں چلنے والی پارٹیاں کبھی بھی انقلاب نہیں لا سکتیں۔ حکمران جمہوریت کی نرسری کالج و یونیورسٹی میں سٹوڈنٹس کے انتخابات نہیں کروانا چاہتے، خاندان، وصیت اور وراثت پر چلنے والی پارٹیاں نوجوانوں سے خوف زدہ ہیں۔ پنجاب کے تمام شہریوں میں صاف و شفاف بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں اور تمام اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں۔ جب نچلی سطح پر اختیارات منتقل کیے جائیں گے تو اجارہ داری نظام کا خاتمہ ہوگا۔ کارکنان ظلم کی ہر شکل کو بدلنے کے لیے جد و جہد کو تیز کریں۔ ہم آئین و دستور کے مطابق قرآن و سنت کے خلاف تمام ترامیم کو مسترد کرتے ہیں، ہمیں موقع ملا تو ملک کے آئین و دستور کے مطابق اختیارات گراس روٹ لیول تک پہنچائیں گے۔ گلی اور محلے کی سطح پر عدل و انصاف قائم کرنے کے لیے کمیٹیاں بنائیں گے۔ عدالتی نظام کو آئین و دستور کے مطابق کریں گے۔ کارکنان اصولی موقف کو قائم رکھتے ہوئے سب کو اپنے ساتھ لے کر چلیں گے تو بہت جلد انقلاب آپ کو دستک دے گا،مملکت خداداد پاکستان میں پاکستان کی ریاست کا آئین و دستور بنایا تھا۔ آئین و دستور کے مطابق سب کو یکساں نظام تعلیم میسر ہوگی، مزدوروں کو ان کے حقوق دئیے جائیں گے۔ ملک سے آئے ہوئے نوجوانوں کو لاکھوں کی تعداد میں شرکت کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ جماعت اسلامی کے کارکن سردی گردی اور ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کر لیں گے لیکن ظلم کے نظام کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے، جاگیرداروں اور وڈیروں کو اپنے سروں پر بٹھا کر تبدیلی کا نعرہ نہیں لگایا جا سکتا، ہم کسی کی آشیر باد سے نہیں بلکہ عوامی رائے سے اقتدار میں آئیں گے۔ پہلے جاگیردار اور اب کارپوریٹ جاگیردار ہیں جو عوام کو مزید غلام بنا رہے ہیں۔ کارپوریٹ سسٹم سے جاگیرداروں اور وڈیروں کو خیر آباد کر کے کسانوں کو ان کی محنت کا حصہ دلوائیں گے۔ کسی بھی انسان کو اختیار نہیں کہ زمین پر خدا بن کر عوام پر ظلم کرے، اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام ہی قائم ہوگا،کوئی شہنشاء اور پالن ہار نہیں، ربوبیت صرف اور صرف اللہ کی ہے۔ مینار پاکستان کے سائے تلے لاکھوں انسان اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ رب کے سوا کسی کی معبودیت قبول نہیں کریں گے، ہم امریکہ اور اس کے حواریوں کو خوش کرنے کے لیے بلکہ اللہ کی حاکمیت اور اس کے نظام کو نافذ کرنے کے لیے جد و جہد کر رہے ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے حکمران امریکہ سے ڈرتے ہیں اور نعوذ باللہ امریکہ کو خدا سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حاکمیت کا مطلب یہی ہے کہ اللہ اور اس کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق دنیا کے نظام کو قائم کرنا ہے، حکمران طبقہ اللہ اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کرنے کے بجائے امریکہ کی طرف دیکھتا ہے، اگر حکمران طبقہ اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرتا تو 27 ویں ترمیم پارلیمینٹ میں لائی ہی نہیں جاتی، حکمران عوام سے خوف زدہ ہوکر ایسی ترامیم پاس کروا رہے ہیں جس سے وہ مزید ظلم کر سکیں، رب کے نظام کے مطابق جب فاطمہ بنت محمد کو استثنیٰ حاصل نہیں تو ہمارے ملک کا چاہے صدر ہو یا آرمی چیف کسی کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ عوام کو ایسی قیادت کی ضرورت نہیں جو صبح اور شام موقف بدلتے ہیں اور جیل سے بیٹھ کر فرمان جاری کرتے ہیں، ہمارے حکمران انگریزوں کے بنائے ہوئے نظام کے مطابق حکمرانی کر رہے ہیں۔ آج وڈیرے اور جاگیردار اور ان کی نسلیں عوام پر حکمرانی کررہی ہیں۔بیوروکریسی کا نظام بھی یہی ہے کہ یہ لوگ عوام کو خادم اور خود حکمران بن جاتے ہیں۔ سارے اختیارات پر وڈیرے،جاگیردار، خوانین اور بیوروکریٹ کے پاس ہیں جو اپنے سے اوپر کے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے 25 کروڑ عوام کا استحصال کرتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ حکمران نوجوانوں کی تعلیمی نسل کشی کررہے ہین اور قوم کو جاہل بنارہے ہیں۔ بد قسمتی سے پاکستان میں کسی بھی سیاسی پارٹی کا ایجنڈے میں تعلیم نہیں ہے۔ ملک میں 2 کروڑ 62 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ ہم ایسا نظام چاہتے ہیں کہ جس میں پوری قوم کے لیے یکساں نظام تعلیم ہو۔ 50 ارب روپے اگر تعلیم کے بجٹ پر خرچ کیے جائیں اور بچوں کو مفت و معیاری تعلیم فراہم کی جائے تو قوم ترقی کرے گی۔ہمارے حکمران آئی ٹی کے میدان میں بھی نوجوانوں کو آگے بڑھنے نہیں دیتے۔ نوجوانوں میں پوٹینشل موجود ہے، بنوقابل پروگرام کے تحت پاکستان میں 12 لاکھ عوم رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ حکومت و ریاست اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہے لیکن نوجوانوں کو تعلیم دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔عورت کو نعرے نہیں حقوق چاہیے ،جماعت اسلامی عورت کو گھر کی زینت اور معاشرے کی قوت بنانا چاہتی ہے ، جماعت اسلامی خواتین کو امپاور کرنا چاہتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار حلقہ خواتین جماعت اسلامی کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے خواتین سیشن بعنوان جہاں آباد تم سے ہے سے اپنے افتتاحی خطاب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ اجتماع عام میں خواتین کی بھرپور حاضری  اس حقیقت کی گواہ ہے کہ پاکستان کی خواتین بیدار ہو چکی ہیں۔ ڈپٹی سیکرٹری ثمینہ سعید  اور ڈپٹی سیکرٹری  عفت سجاد نے کہا پاکستانی خواتین اس نظام کی تبدیلی کی خواہش لیے آج مینار پاکستان کے سائے تلے جمع ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے اپنے خطاب میں کہا کہ  اس اجتماع میں خواتین کی بھرپور موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نظامِ تبدیلی کے لیے سرگرم اور پْرعزم ہیں۔امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام مینارِ پاکستان لاہور میں ہونے والے عظیم الشان اجتماعِ عام کے دوسرے روز خواتین سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں موجود عدالتی و حکومتی خرابیوں نے خواتین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کررکھا ہے۔ اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ سے ہی خواتین کو ان کے اصل حقوق مل سکتے ہیں۔بدقسمتی سے ملک میں موجود گلا سڑا عدالتی نظام ہے،عدالتوں میں دہائیوں سے مقدمات التوا کا شکار ہیں، تو عام خواتین کے گھریلو مسائل کیسے حل ہوں گے؟ انہوں نے نوجوان خواتین، خصوصاً جنریشن ذی سے اپیل کی کہ وہ جدید ذرائع، ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ملک میں نظام کی تبدیلی کی جدوجہد میں جماعت اسلامی کی ''بدل دو نظام'' تحریک کا حصہ بنیں۔ جماعت اسلامی بنو قابل پروگرام کے تحت ہاؤس وائف خواتین کے لیے فری آئی ٹی کورسزشروع کرنے جارہی ہے، جبکہ 12 لاکھ سے زائد رجسٹریشن میں  50 فیصد سے زائد نوجوان خواتین شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ا ئین و دستور کے مطابق جماعت اسلامی پاکستان میں کرنے کے لیے حافظ نعیم اور اس کے کے نظام ملک میں نظام کو اللہ کی رہے ہیں نے کہا

پڑھیں:

فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا

بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔

فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔

ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔

متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔

سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔

ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔

سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔

اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔

خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔

ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔

ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔

2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔

استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔

امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔

اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش