این آئی اے نے ایک اور کشمیری ڈاکٹر کو پٹھانکوٹ سے گرفتار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
45 سالہ ڈاکٹر رئیس اس وقت پٹھانکوٹ کے وائٹ میڈیکل کالج سے وابستہ ہیں۔ ڈاکٹر رئیس نے 2020-2021ء کے دوران ہریانہ میں فرید آباد کی الفلاح یونیورسٹی میں کام کیا تھا اور وہ مبینہ طور پر یونیورسٹی میں تعینات عملے کے ارکان کے ساتھ باقاعدہ ٹیلی فونک رابطے میں تھے۔ اسلام ٹائمز۔ کشمیریوں کو ہراساں کرنے کی بڑھتی ہوئی مہم کے دوران بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے بھارتی پنجاب میں ایک اور کشمیری ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق این آئی اے نے سرجری کے پروفیسر ڈاکٹر رئیس احمد بٹ (ایم بی بی ایس، ایم ایس، ایف ایم جی) کو پٹھانکوٹ کے ایک نجی ہسپتال سے گرفتار کر لیا۔ 45 سالہ ڈاکٹر رئیس اس وقت پٹھانکوٹ کے وائٹ میڈیکل کالج سے وابستہ ہیں۔ ڈاکٹر رئیس نے 2020-2021ء کے دوران ہریانہ میں فرید آباد کی الفلاح یونیورسٹی میں کام کیا تھا اور وہ مبینہ طور پر یونیورسٹی میں تعینات عملے کے ارکان کے ساتھ باقاعدہ ٹیلی فونک رابطے میں تھے۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی ایجنسیوں نے ڈاکٹروں سمیت کشمیریوں کو ہراساں کرنے کے لئے پکڑدھکڑ تیز کر دی ہے۔ ان کارروائیوں کو بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کے ایک وسیع ایجنڈے کا حصہ سمجھا جاتا ہے تاکہ حالیہ مشتبہ دہلی دھماکے کے بعد کشمیری پیشہ ور افراد کے بارے میں شکوک شبہات پیدا کیے جائیں اور انہیں معاشی طور پر کمزور کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یونیورسٹی میں ڈاکٹر رئیس
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔