27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے سینیٹ اجلاس شروع
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
اسلام آباد: سینیٹ کا اجلاس آج صبح 11:30 بجے شروع ہو گیا، جس میں قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم پر رپورٹ پیش کی جا رہی ہے۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ترمیم کا بل ایوان میں پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق سینیٹرز کے اعزاز میں وزیراعظم کی جانب سے پرتکلف ناشتہ بھی پیش کیا گیا، جس میں چنے، نان، حلوہ، آملیٹ، آلو کی بھجیا، لسی، کولڈ ڈرنکس اور منرل واٹر شامل تھے۔
اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کے علاوہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ایکٹ، میٹرو بس منصوبے، پاکستان سائیکالوجیکل کونسل، براڈکاسٹنگ کارپوریشن ایکٹ اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن ایکٹ میں ترامیم کے بل بھی پیش کیے جائیں گے۔
اس دوران اپوزیشن اتحاد تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے ترمیم کی شدید مخالفت کی ہے، جسے آئین اور عدلیہ کی آزادی کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اس ترمیم کو ’شخصی قانون سازی‘ قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں ’یومِ سیاہ‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ترمیم کی دیگر شقوں پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اجلاس کے اختتام پر بل کی منظوری دی جائے گی، جس کے بعد اسے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیش کی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔