سیاسی، معاشی استحکام سے ملک کی سمت درست ہوئی، اتحادیوں نے قومی سوچ کا مظاہرہ کیا، شہباز شریف: 27ویں ترمیم پر تعاون حکومتی، اتحادی سینیٹرز کا شکریہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
اسلام آباد (اے پی پی + نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ستائیسویں آئینی ترمیم کی منظوری کے عمل میں تعاون پر حکومتی و اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اتحادی جماعتوں نے قومی سوچ کا مظاہرہ کیا ، سیاسی و معاشی استحکام کی بدولت ملک کی سمت درست ہوئی، ترقی و خوشحالی کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کے اعزاز میں عشائیہ سے خطاب میں کیا۔ وزیراعظم نے حکومتی اور اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کا خیر مقدم کیا اور 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے عمل میں ان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر زرداری اور تمام اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کے مشکور ہیں، اتحادی جماعتوں نے اس قومی سوچ کا بھرپور ساتھ دیا۔ وفاق کی مضبوطی، ملک کے وسیع مفاد، صوبوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے اور گورننس کو بہتر کرنے کے لئے 27ویں آئینی ترمیم کیلئے ہم سب نے مل کر کوشش کی۔ اس حکومت میں حاصل کئے گئے تمام سنگ میل حکومت اور اتحادی جماعتوں کے باہمی تعاون کا نتیجہ ہیں، پاکستان کی سفارتی کامیابیاں اور دنیا میں نام تمام اتحادی جماعتوں کے مابین ہم آہنگی اور باہمی اتحاد کا عکاس ہیں، ہم سب کی مشترکہ کوششوں کی بدولت پاکستان کو شاندار مقام حاصل ہوا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملکی معاشی صورتحال میں بتدریج بہتری ہو رہی ہے، اللہ کے فضل و کرم سے ملک میں سیاسی و معاشی استحکام کی بدولت ملک کی سمت درست ہوئی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے سینٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے کی درخواست کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اتحادی جماعتوں کے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔