دلی، ”نیشنل میڈیکل کمیشن“ نے تین کشمیری ڈاکٹروں سمیت چار ڈاکٹروں کے نام اپنی فہرست سے حذف کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
یہ چاروں دلی دھماکے کے سلسلے میں پہلے ہی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یواے پی اے“ کے تحت زیر حراست ہیں۔ بھارت کے "نیشنل میڈیکل کمیشن" نے تین کشمیری ڈاکٹروں اور لکھنو کی ایک خاتون ڈاکٹر کے نام اپنی فہرست سے حذف کر دیے ہیں۔ ذرائٰع کے مطابق کشمیری ڈاکٹروں مظفر احمد، ڈاکٹر عدیل احمد راتھر اور ڈاکٹر مزمل شکیل کے علاوہ بھارتی شہر لکھنو کی ڈاکٹر شاہین سعید کو کمیشن کے اگلے احکامات تک ادویات کی پریکٹس یا بطور میڈیکل پریکٹیشنرز کی تقرری کی اجازت نہیں ہو گی۔ یہ چاروں دلی دھماکے کے سلسلے میں پہلے ہی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یواے پی اے“ کے تحت زیر حراست ہیں۔ یاد رہے کہ بھارتی پولیس اور ایجنسیوں نے ان چاروں ڈاکٹروں پر دلی دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ لکھنو کی رہائشی ڈاکٹر شاہین کشمیری ڈاکٹروں کے ساتھ رابطے میں تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کشمیری ڈاکٹروں
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔