یہ چاروں دلی دھماکے کے سلسلے میں پہلے ہی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یواے پی اے“ کے تحت زیر حراست ہیں۔ بھارت کے "نیشنل میڈیکل کمیشن" نے تین کشمیری ڈاکٹروں اور لکھنو کی ایک خاتون ڈاکٹر کے نام اپنی فہرست سے حذف کر دیے ہیں۔ ذرائٰع کے مطابق کشمیری ڈاکٹروں مظفر احمد، ڈاکٹر عدیل احمد راتھر اور ڈاکٹر مزمل شکیل کے علاوہ بھارتی شہر لکھنو کی ڈاکٹر شاہین سعید کو کمیشن کے اگلے احکامات تک ادویات کی پریکٹس یا بطور میڈیکل پریکٹیشنرز کی تقرری کی اجازت نہیں ہو گی۔ یہ چاروں دلی دھماکے کے سلسلے میں پہلے ہی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یواے پی اے“ کے تحت زیر حراست ہیں۔ یاد رہے کہ بھارتی پولیس اور ایجنسیوں نے ان چاروں ڈاکٹروں پر دلی دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ لکھنو کی رہائشی ڈاکٹر شاہین کشمیری ڈاکٹروں کے ساتھ رابطے میں تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کشمیری ڈاکٹروں

پڑھیں:

ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔

(جاری ہے)

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر