ٹی وی ڈرامے اور سفارت کاری نے بنگلہ دیش اور تُرکیہ کو مزید قریب کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
ڈھاکہ کے ایک اسٹوڈیو میں وائس اوور آرٹسٹ ربائیا ماتین گتی ترکیہ کے مشہور ڈرامے کو بنگالی زبان میں ڈب کر رہی ہیں، جو اس بات کا مظہر ہے کہ ٹی وی ڈرامے اور ثقافتی رابطے دونوں ممالک کے تعلقات کو قریب لا رہے ہیں۔
نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ڈھاکہ کے ایک اسٹوڈیو میں وائس اوور آرٹسٹ ربائیا ماتین گتی ترکیہ کے مشہور ڈرامے کو بنگالی زبان میں ڈب کر رہی ہیں، جو دکھاتا ہے کہ ترکیہ اور بنگلہ دیش کے تعلقات پہلے سے بہتر ہو رہے ہیں، اس دوران وہ اسکرین پر چلتے ترک ڈرامے ’کارا سیودا‘ کی نئی اقساط کے ڈائیلاگ بھی بول رہی تھیں، جو بنگلہ دیش میں بہت مقبول ہیں اور لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں۔
ترک ڈراموں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت صرف تفریح تک محدود نہیں، بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی، تجارتی اور دفاعی تعلقات کو بھی ظاہر کرتی ہے، حالانکہ دونوں ملک ایک دوسرے سے 5 ہزار کلومیٹر دور ہیں، مگر تعلقات قریب ہوتے جا رہے ہیں۔
بنگلہ دیش میں ترک کھانوں کے ریستورانوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور مقامی افراد ترکیہ کی زبان سیکھنے میں بھی دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں، ساتھ ہی دونوں حکومتوں کے درمیان تعلقات میں بھی گرمجوشی آئی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ڈھاکا اور نئی دہلی کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
نئے مواقع
ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسر انوارالعظیم کے مطابق ترکیہ اور بنگلہ دیش کے تعلقات ہمیشہ اچھے نہیں رہے، لیکن اب یہ بہتر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ تعلق دو بار کمزور ہوا، ایک بار 1971 میں جب بنگلہ دیش پاکستان سے الگ ہوا اور دوسری بار 2013 میں جب بنگلہ دیش نے جنگی جرائم میں ملوث افراد کو پھانسی دی۔
اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت زیادہ نہیں لیکن ترکیہ، بنگلہ دیش کے لیے چین کے مقابلے میں دفاعی سامان کا ایک نیا متبادل بن سکتا ہے۔
ترکیہ کے دفاعی شعبے کے سربراہ جولائی میں ڈھاکا آئے تھے اور رواں ماہ بنگلہ دیش کی فوج کے سربراہ بھی ترکیہ کا دورہ کرنے والے ہیں۔
بنگلہ دیش نے ترکیہ کے ڈرونز میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ڈھاکا کے عبوری حکمران محمد یونس نے بھی ترک وفد سے ملاقات میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
کلاسیں، کپڑے اور گھڑ سواری
سرکاری تعلقات کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی رابطے بھی بڑھ رہے ہیں۔
ڈیپٹو ٹی وی کے پروگرامنگ ہیڈ اعزاز الدین احمد کے مطابق ان کے چینل کے پاس ترجمہ کرنے، اسکرپٹ لکھنے اور ڈبنگ کرنے والی ایک بڑی ٹیم موجود ہے، کیونکہ ملک میں ترک ڈراموں کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔
چینل نے 2017 میں ایک تاریخی ترک ڈراما دکھایا جو بہت زیادہ مشہور ہوا اور بھارتی ڈراموں سے بھی زیادہ دیکھا گیا، جس کے بعد چینل نے مزید ترک ڈرامے خریدنا شروع کر دیے۔
اسی طرح لوگوں میں ترک زبان سیکھنے کا شوق بھی بڑھ رہا ہے اور مختلف اداروں نے زبان کے کورسز شروع کیے ہوئے ہیں۔
جگن ناتھ یونیورسٹی کے لیکچرار کے مطابق ان کی ایک کلاس میں تقریباً 20 طالبعلم ہوتے ہیں اور طلبہ کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔
بعض لوگ ترک ثقافت سے اتنا متاثر ہوئے ہیں کہ اپنی روزمرہ زندگی میں بھی اس کا رنگ شامل کر رہے ہیں۔
کاروباری خاتون طاہیہ اسلام نے ترک طرز کے کپڑوں کا برانڈ شروع کیا ہے اور عثمانی روایت سے متاثر ہو کر گھڑ سواری بھی سیکھ لی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عثمانی دور میں شادی شدہ جوڑے گھوڑوں پر سیر کو جاتے تھے، اب ان کے شوہر بھی گھڑ سواری کرتے ہیں اور خود ان کا بھی گھوڑا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کے درمیان ترکیہ کے کے مطابق میں بھی رہے ہیں
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔