مقبوضہ کشمیر میں املاک کی ضبطگی اور گھروں کی مسماری پر اظہار تشویش
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
لبریشن الائنس کے ترجمان سجاد میر نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے خطے میں طاقت کے وحشیانہ استعمال اور جابرانہ کارروائیوں میں اِضافہ ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جموں و کشمیر لبریشن الائنس نے قابض بھارتی انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کی جائیدادوں کی ضبطگی اور رہائشی مکانات کی مسماری کو غیر منصفانہ، غیر قانونی اور انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق لبریشن الائنس کے ترجمان سجاد میر نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے خطے میں طاقت کے وحشیانہ استعمال اور جابرانہ کارروائیوں میں اِضافہ ہوا ہے، جس کے باعث کشمیری خوف و دہشت اور عدم تحفظ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابض انتظامیہ کے اقدامات کا مقصد خطے میں اختلافِ رائے کو دبانا اور شہری آزادیوں کو محدود کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ املاک ضبط کرنے اور گھروں کو مسمار کرنے جیسے ہتھکنڈے محض انتظامی اقدامات نہیں بلکہ سیاسی دبائو بڑھانے کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری رہنمائوں، کارکنوں اور عام شہریوں کو جھوٹے الزامات پر مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے۔ سجاد میر نے کہا کہ کشمیر ایک سیاسی تنازعہ ہے جسے طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے کی سنگین صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیں اور بھارت کے ظالمانہ اقدامات کو روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔