جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور اتحادیوں کا ریفرنڈم میں اصلاحات کی حمایت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
جماعتِ اسلامی بنگلادیش نے 7 دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ قومی ریفرنڈم میں ’ہاں‘ کو ووٹ دینے کی مہم چلائیں گی۔ یہ ریفرنڈم جولائی چارٹر میں کی گئی اصلاحات کو آئینی حیثیت دینے کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔
یہ اعلان اتوار کے روز ڈھاکا میں جماعت کے مرکزی دفتر کے قریب الواقع الفلاح آڈیٹوریم میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا، جہاں جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل میاں غلام پرووار نے 8 جماعتی اتحاد کی جانب سے مشترکہ بیان پڑھ کر سنایا۔
’ہاں‘ کے حق میں عوامی مہم کا فیصلہغلام پرووار نے کہا کہ اتحاد میں شامل جماعتیں پہلے ہی وسیع تر اصلاحات کی حامی تھیں اور اب پورے ملک میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے متحرک ہوں گی۔
انہوں نے عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اصلاحات کی تفصیلات واضح طور پر سامنے لائے کہ کیا نظام پہلے موجود تھا، اور کون سی ترامیم تجویز کی گئی ہیں اور یہ تمام معلومات الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ، طباعتی مواد اور قومی میڈیا مہم کے ذریعے عوام تک پہنچائے۔
ایک سوال کے جواب میں پرووار نے الزام لگایا کہ ایک حریف سیاسی جماعت اپنی آن لائن ٹیم کے ذریعے ’نہیں‘ کی مہم چلا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا، اس سے قوم جان چکی ہے کہ اصلاحات کی مخالفت کون کر رہا ہے۔ پورا ملک ان اصلاحات کے حق میں ہے، اور جو ان کے خلاف کھڑے ہوں گے انہیں عوام مسترد کر دیں گے۔
سرکاری مشیروں پر الزاماتاس سے قبل ایک اور پریس بریفنگ میں جماعت کے ایک رہنما نے الزام لگایا تھا کہ چیف ایڈوائزر کے 3 مشیر گمراہ کن معلومات دے رہے ہیں اور ایک مخصوص جماعت کے حق میں کام کر رہے ہیں۔
جب ان مشیروں کے نام پوچھے گئے تو پرووار نے کہا کہ اتحاد کے پاس ثبوت موجود ہیں اور مناسب وقت پر انکشاف کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت کو محتاط رہنے اور چیف ایڈوائزر سے غیرجانبداری برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
پرووار کا کہنا تھا کہ آٹھ جماعتی تحریک جاری رہے گی کیونکہ ان کے کئی اہم مطالبات ابھی پورے نہیں ہوئے۔ اتحاد کی رابطہ کمیٹی آئندہ کے پروگراموں کا فیصلہ کرے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ تحریک عام انتخابات پر اثرانداز نہیں ہوگی بلکہ انہی کے دباؤ کی وجہ سے اہم اصلاحاتی تجاویز کو ریفرنڈم میں شامل کیا گیاجو ان کے مطابق تحریک کی ایک کامیابی ہے۔
جب ان سے بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فرخُل اسلام عالمگیر کے جماعت کے خلاف بیان کے بارے میں پوچھا گیا تو پرووار نے مختصر جواب دیا کہ انہوں نے جو کہا، وہی بات اُن پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
شیخ حسینہ کے خلاف فیصلے سے قبل صورتحالسابق وزیراعظم شیخ حسینہ، جنہیں 2024 کی عوامی تحریک میں اقتدار سے ہٹایا گیا تھا، کے خلاف مقدمے کا فیصلہ پیر کو متوقع ہے۔
پرووار نے کہا کہ 8 جماعتی اتحاد کسی بھی ممکنہ بدامنی کو روکنے کے لیے میدان میں رہے گا اور ماضی کی طرح ہر غیرجمہوری اقدام کے خلاف عوامی جدوجہد جاری رکھے گا۔
پریس کانفرنس میں آٹھوں جماعتوں کے رہنما شریک تھے، جن میں جماعت اسلامی کے معاون سیکریٹری جنرل عبدالحلیم، احسان الحق محبوب زبیر، اسلامی اندولان بنگلادیش کے سیکریٹری جنرل یونس احمد، خلافت مجلس کے جلال الدین احمد اور نظامِ اسلام پارٹی کے نمائندگان شامل تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش جماعت اسلامی ریفرنڈم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش جماعت اسلامی ریفرنڈم سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی اصلاحات کی پرووار نے انہوں نے جماعت کے کے خلاف کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔