ستائیسویں ترمیم پاس ہوگئی، 28 ویں ترمیم کی تیاری کریں، فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
ستائیسویں ترمیم پاس ہوگئی، 28 ویں ترمیم کی تیاری کریں، فیصل واوڈا WhatsAppFacebookTwitter 0 10 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز) سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کی منظوری جمہوریت کے استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے جمہوری روایت کے تحت ایک بہترین اور جرات مندانہ اقدام اٹھایا ہے، جس سے نہ صرف جمہوریت بلکہ قومی دفاع بھی مضبوط ہو گا۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی کے سوال پر کہ خیبر پختونخواہ کے نام کی تبدیلی سے متعلق پیش کی جانے والی ترمیم پر آپ کا کیا مؤقف ہے؟ فیصل واوڈا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ “ایمل ولی میرا دوست ہے، جیسا کہیں گے کر دے گا۔”
ایک اور سوال کے جواب میں کہ مولانا صاحب کو کیسے راضی کریں گے؟” سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا، “مولانا ہمارے بڑے ہیں، ہم ان سے سیاست سیکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ “اب اس ترمیم میں دم نہیں رہا، اٹھائیسویں ترمیم کی تیاری کریں۔سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم ملک کی ضرورت ہے، اس سے نہ صرف ادارے مستحکم ہوں گے بلکہ جمہوری نظام بھی مزید مضبوط بنیادوں پر استوار ہو گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعدالت کا سردار تنویر الیاس گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم عدالت کا سردار تنویر الیاس گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم ستائیسویں آئینی ترمیم پر کسی قسم کا ڈیڈلاک نہیں، عطاءاللہ تارڑ پاکستان کی جانب سے افغان بارڈر کی بندش سے کتنے کروڑ ڈالرز کا نقصان ہوا؟ حیرت ہے جنہوں نے الیکشن کا فیصلہ دیا، پھر ڈویژن بینچ میں بیٹھ کر معطل کر دیا، جسٹس محسن ستائیسویں آئینی ترمیم کیلیے نمبرز پورے ہونے کے سوال پر اسحاق ڈار کا جواب سینیٹر عرفان صدیقی کی صحت سے متعلق اہل خانہ کی وضاحت آ گئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ستائیسویں ا ئینی ترمیم فیصل واوڈا ترمیم کی
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :