سینیٹر عرفان صدیقی کی صحت سے متعلق اہل خانہ کی وضاحت آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
سینیٹرعرفان صدیقی کی صحت کے حوالے سے ان کے اہل خانہ کی وضاحت سامنے آ گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی کے اہل خانہ کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ سینیٹر عرفان صدیقی کو وینٹی لیٹر پر منتقل نہیں کیا گیا۔
یہ خبر بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی کی طبیعت ناساز، 'ہوسکتا سینیٹ میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے'
اہل خانہ کے مطابق سینیٹر عرفان صدیقی سانس کی تکلیف کے باعث انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج ہیں۔ وہ سانس کی تکلیف کے باعث گزشتہ کچھ دن سے اسلام آباد کے مقامی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
قبل ازیں ذرائع کے حوالے سے خبریں سامنے آئی تھیں کہ سینیٹر عرفان صدیقی کی طبیعت ناساز ہوگئی ہے اور آکسیجن لگنے کی وجہ سے سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سینیٹر عرفان صدیقی عرفان صدیقی کی اہل خانہ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :