27ویں آئینی ترمیم پاس ہو گئی ہے،28ویں کی تیاری کریں،سینیٹر فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم پاس ہو گئی ہے،28ویں کی تیاری کریں ۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق فیصل واوڈا کاکہناتھا کہ وزیراعظم نے زبردست کام کیا، میں ان کی قدر کرتا ہوں،وزیراعظم نے جمہوری روایت کے تحت بہترین اقدام کیا۔
ایک سوال ’’خیبرپختونخوا کے نام کی تبدیلی کے حوالے سے کیا کہیں گے؟کے جواب میں فیصل واوڈا نے کہاکہ ایمل ولی میرا دوست ہے، جیسا کہیں گے کر دیں گے۔
ایک اور سوال ’’مولانا صاحب کو راضی کرلیں گے؟‘‘کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مولانا ہمارے بڑے ہیں ہم ان سے سیکھتے ہیں۔
مالی، فوج کی حمایت کا الزام، 90 ہزار فالوورز والی ٹک ٹاکر اغوا کے بعد قتل
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: فیصل واوڈا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :