data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251110-2-15
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف سندھیانی تحریک اور عوامی تحریک کی جانب سے اعلان کردہ‘‘سندھ کا وجود اور وسائل بچاؤ مارچ’’کے سلسلے میں عوامی تحریک کراچی ڈویژن کی تیاری کمیٹی کا اجلاس ڈویژن کے سیکریٹری ایڈووکیٹ عبداللہ بپڑ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں 16 نومبر کو حیدرآباد میں سندھیانی تحریک کی جانب سے اعلان کردہ ریلی میں کراچی سے بھرپور شرکت کی منصوبہ بندی کی گئی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اور عوامی پریس کلب ملیر کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کو ربڑ اسٹیمپ بنا دیا گیا ہے۔وفاقی آئینی عدالت قائم کرکے سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کیا جا رہا ہے۔ اب تک کوئی بھی آئینی بینچ حکومت کے خلاف فیصلہ نہیں دے سکا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو قید کرکے پاکستان میں عوام کے بنیادی آئینی اور جمہوری حقوق معطل کر دیے گئے ہیں۔ ستائیسویں آئینی ترمیم قائدِاعظم محمد علی جناح کے پاکستان کا قتل ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ یہ ترمیم بدترین جمہوریت کا چہرہ بے نقاب کر چکی ہے اور ننگی آمریت کو آئینی شکل دے دی گئی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے حکمرانوں کو احتساب سے بالاتر کر کے بادشاہی نظام قائم کیا جا رہا ہے۔ بادشاہ صفت حکمران جتنی بھی کرپشن کریں، ان کا کوئی احتساب نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا فرض ہے کہ وہ آئین کا تحفظ کرے۔ وکلا کو چاہیے کہ وہ 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف جدوجہد کر کے عدلیہ کو بچائیں۔ تاریخ نے سپریم کورٹ کو عدلیہ پر لگے داغ دھونے کا موقع دیا ہے، اور ایک بار پھر عدلیہ بحالی تحریک کی ضرورت ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم زبردستی مسلط کی جا رہی ہے۔ فارم 47 والے اسمبلی ممبران ترمیم کا مسودہ پڑھے بغیر ہی اسے منظور کر لیں گے، کیونکہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو اسی مقصد کے تحت اقتدار میں لایا گیا ہے تاکہ بدترین مارشل لا کو اسمبلیوں کے ذریعے قانونی شکل دی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم دراصل مارشل لا کو اسمبلی سے منظور کروانے کے مترادف ہے۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کی تاریخ میں بدترین مارشل لا حکمرانی کی مثال قائم کر دی ہے۔ ان دونوں کی بدترین حکومت نے ملک میں مارشل لا کو قانونی شکل دے دی ہے۔عوامی تحریک کے مرکزی میڈیا سیکریٹری کاشف ملاح، مرکزی رہنما پرہ سومرو، علی محمد کلمتی، سندھی شاگرد تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ نوید عباس کلھوڑو، اقبال جروار، ڈاکٹر رحمت اللہ بروہی، جبران جروار، امر مگسی، ایڈووکیٹ رائے چند، راجا مہیشوری، میر نوروز کلمتی، محمد علی ساہڑ، یوسف نوحا?ی، جبار پلیجو، اختر لنڈ، منور جروار، عزیز لانگاہ، غلام اللہ بگھیو، خورشید قریشی، کھجو مل، طارق چانڈیو، علی رضا چانڈیو، عنایت عاربانی اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ستائیسویں ا ئینی ترمیم ا ئینی ترمیم کے تحریک کے مرکزی عوامی تحریک سپریم کورٹ نے کہا کہ مارشل لا کے ذریعے

پڑھیں:

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر  کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔

اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن