امریکی اداروں کا بندرگاہ پر روئی کی فیومیگیشن شرط ختم کرنیکا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
کراچی:
رواں سال امریکاکی نسبت برازیلین روئی سستی ہونے کے باعث مقامی ٹیکسٹائل ملوں کی جانب سے برازیل سے وسیع پیمانے پر روئی کی درآمدات کے باعث امریکی اداروں نے اپنی روئی کی برآمدات بڑھانے کیلیے پاکستانی حکام سے امریکی روئی کی بندرگاہ پر’’فیومیگیشن‘‘ کی شرط ختم کرنے کامطالبہ کردیا ہے۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایاکہ گذشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں درآمد ہونیوالی روئی کی متعلقہ برآمدی ملک میں فیومیگیشن کے بعد کراچی کی بندرگاہ پر بھی اس کی 48 گھنٹوں کی فیومیگیشن کی جاتی ہے، تاکہ روئی میں موجود جراثیم، حشرات اورکیڑوں کاخاتمہ ممکن ہو۔
لیکن کچھ عرصہ قبل متعلقہ وفاقی وزارت نے درآمدی روئی کی دونوں ملکوں کی بجائے کسی ایک ملک میں فیومیگیشن کی اجازت دیدی تھی، تاکہ درآمدی روئی کم سے کم وقت میں ٹیکسٹائل ملوں میں پہنچ سکے۔
انہوں نے بتایاکہ دو امریکی روئی برآمدی ایجنسیوں ’’نیشنل کاٹن کونسل‘‘ اور ’’کاٹن کونسل انٹرنیشل‘‘ نے اپٹما کے ذریعے متعلقہ وفاقی وزارت سے اپیل کی ہے کہ امریکاسے درآمد ہونیوالی روئی پر فیومیگیشن کی شرط مکمل ختم کی جائے،شرط کے خاتمے کامقصد امریکی روئی کی درآمدات بڑھاناہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستانی حکام کو امریکی شرط تسلیم کرنے سے گریزکرناچاہیے تاکہ پاکستان امریکی کیڑوں سے محفوظ رہ سکیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل کپاس کی دو خطرناک سنڈیاں امریکی اورگلابی جبکہ گندم کا لال بیگ امریکا سے درآمد ہونیوالی روئی اورگندم کی فیومیگیشن نہ ہونے کے باعث ہی پاکستان میں فعال ہوئی تھیں۔
انہوں نے بتایاکہ پاکستانی کاٹن انڈسٹری پر ہوشرباٹیکسوں، مہنگی بجلی و گیس ٹیرف اور زائد شرح سود جیسے عوامل سے پیداواری لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوچکاہے، جس کے باعث جننگ فیکٹریاں،آئل ملز اور ٹیکسٹائل ملیں غیر فعال ہوتی جارہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔