لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سیشن کورٹ لاہور میں وزیراعظم شہبازشریف کے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہتک عزت دعویٰ پر سماعت  کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بطور گواہ پیش ہوئے،عدالت نے عطا اللہ تارڑ کو بیان قلمبند کروانے کی ہدایت کی۔

نجی ٹی وی چینل  دنیا نیوز کے مطابق سیشن کورٹ لاہور میں وزیراعظم شہبازشریف کے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہتک عزت دعویٰ پر سماعت ہوئی،وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بطور گواہ سیشن کورٹ میں پیش ہوئے،عدالت نے عطا اللہ تارڑ کو بیان قلمبند کروانے کی ہدایت کی۔

علیمہ خان کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کرانے کیلئے پولیس کی خصوصی ٹیم تشکیل 

عطا اللہ تارڑ نے کہاکہ وزیراعظم کی سیاسی و سماجی خدمات پوری دنیا جانتی ہے،نجی ٹی وی پروگرام میں مدعی پر جھوٹے، من گھڑت الزامات لگائے گئے،کہا گیا پاناما لیکس کو واپس لینے کے حوالے سے 10ارب روپے کی پیش کش کی گئی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ جس نے ٹرانسکرپٹ بنایا وہ کہاں ہے؟معاون وکیل شہبازشریف نے کہاکہ بیان حلفی موجود ہے، عدالت میں پیش کیا جائے گا، عطا تارڑ نے کہاکہ تقریبات، جلسے، عوامی اجتماع میں الزامات کو دہرایاگیا۔ 

وکیل بانی پی ٹی آئی نے پیش کردہ ریکارڈ قبول کرنے پر اعتراض کردیا،وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہاکہ ویڈیوز گواہ کی ملکیت ہیں نہ گواہ نے ریکارڈ کیں،اخباری تراشتے گواہ سے متعلقہ نہیں، بیان میں پیش نہیں کئے جاسکتے۔عدالت نے تمام دستاویزات ایک بار جمع کرانے کی ہدایت  کی۔

دو دن اضافے کے بعد سونے کی عالمی و مقامی قیمتوں میں بڑی کمی

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی عطا اللہ تارڑ سیشن کورٹ عدالت نے نے کہاکہ میں پیش

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا