پاکستان قابل اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر آبھر : خواجہ آصف : بھارت سازشوں میں مصروف : عطاء تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستان کے امریکہ، چین، سعودی عرب اور دبئی کے ساتھ تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز اسلام آباد کے زیرِ اہتمام ’’پاکستان کی سفارتی کامیابیاں‘‘ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اب عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نئے دور میں داخل ہو گئے۔ قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مثالی قرار دئیے جا رہے ہیں۔ چین پاکستان کا ہر موسم کا دوست ہے پاکستان اور چین سی پیک فیز تھری پر کام بڑھانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ پاکستان کی وسط ایشیائی ممالک آذربائیجان اور ترکمانستان تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی۔ پاکستان اسلاموفوبیا کے خلاف ایک مؤثر آواز بن کر ابھرا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خارجہ پالیسی ہماری ترجیح ہے، دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ہم بیانیہ کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہمارا بیانیہ ایک بھرپور جواب کی صورت میں ہے، ایک طرف جھوٹا بیانیہ پھیلایا گیا جبکہ دوسری طرف واضح حقائق نے دنیا کی آنکھیں کھول دیں۔ وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب میں معاشی سٹریٹجک فریم ورک کا اجرا انتہائی اہم پیشرفت ہے، اب ہمارا ہدف ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کا فروغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب دشمن نے ہم پر جنگ مسلط کی تو ہماری مسلح افواج نے اس کا منہ توڑ جواب دیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ہم نے اپنے سے چار گنا بڑی طاقت کو شکست فاش دی۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں ہماری فضائیہ کا کردار سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کوسٹ گارڈ نے بھارت کے لئے جاسوسی کرنے والے ملاح کو گرفتار کیا جس نے بھارتی ایجنسیوں کے ہاتھوں استعمال ہونے کی پوری کہانی دنیا کے سامنے رکھ دی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا جھوٹا پراپیگنڈا کر رہا تھا تو پاکستان میں ذمہ دارانہ رپورٹنگ نے دنیا کی توجہ حاصل کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کے ساتھ
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں