خورشید شاہ کیخلاف کرپشن کیس ایف آئی اے کو منتقل کرنیکا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت)سکھر کی احتساب نے خورشید شاہ، اویس شاہ سمیت 18 ملزمان کے خلاف کرپشن ریفرنس نیب سے ایف آئی اے منتقل کرنے کا فیصلہ دیا ھے ، احتساب عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ، ان کے داماد و اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ، بیٹوں، اہلِ خانہ اور دیگر کے خلاف دائر کرپشن کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے یہ ریفرنس نیب کے دائرہ اختیار سے باہر قرار دیتے ہوئے ایف آئی اے کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔فیصلہ احتساب عدالت سکھر کے جج غلام یاسین کولاچی نے سنایا۔ سماعت کے دوران خورشید شاہ کے صاحبزادے سید زیرک شاہ اپنے وکلاء کے ہمراہ عدالت میں موجود تھے۔ عدالت نے گذشتہ سماعت پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنایا گیا۔ عدالت نے کہا کہ نئے احتساب قانون کے تحت یہ ریفرنس اب نیب کے دائرہ کار میں نہیں آتا، لہٰذا اسے ایف آئی اے کے حوالے کیا جائے۔یہ ریفرنس تقریباً پانچ سال دس ماہ قبل نیب کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ نیب نے الزام عائد کیا تھا کہ سید خورشید احمد شاہ اور دیگر نے اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ارب 23 کروڑ روپے مالیت کے اثاثے بنائے۔ تاھم نیب نے عدالت میں 19 کروڑ روپیاثاثہ جات کا حتمی چالان پیش کیا۔نیب کے مطابق جن جائیدادوں کی قیمت ایک ارب 23 کروڑ بتائی گئی تھی وہ دراصل 30 سے 40 سال قبل خریدی گئی تھیں، اور اس وقت ان کی مالیت تقریباً انیس کروڑ روپے تھی۔ اس بنیاد پر نیب نے عدالت سے مؤقف اختیار کیا کہ نئے احتساب قانون کے تحت یہ کیس نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔عدالت نے نیب کی اسی استدعا کی روشنی میں آج فیصلہ سناتے ہوئے ریفرنس کو نیب کے بجائے ایف آئی اے کو منتقل کرنے کا حکم دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایف ا ئی اے عدالت نے نیب کے
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔