اثاثہ جات کیس؛احتساب عدالت نے خورشید شاہ کیخلاف کیس کا فیصلہ سنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
سکھر(ڈیلی پاکستان آن لائن)سکھر کی احتساب عدالت نے پیپلزپارٹی رہنماؤں خورشید شاہ، اویس شاہ ودیگر کے خلاف کرپشن کیس کا محفوظ فیصلہ سنادیا۔ کیس نیب سے ایف آئی اے کو منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔
روزنامہ جنگ کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ ان کے بھتیجے و داماد سپیکر سندھ اسمبلی سید اویس شاہ ، بیٹوں ایم پی اے فرخ شاہ، زیرک شاہ، دو بیویوں سمیت اٹھارہ ملزمان کے خلاف نیب کی جانب سے دائر اثاثہ جات کیس کی سماعت سکھر کی احتساب عدالت میں ہوئی۔ جج غلام یاسین کولاچی نے سماعت کے دوران گذشتہ سماعت پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔
جارجینا کو غیر متوقع انداز میں شادی کی پیشکش کی: کرسٹیانو رونالڈو
عدالت نے خورشید شاہ ودیگر پر دائر ریفرنس نیب کے دائر کار سے باہر ہونے پر ریفرنس ایف آئی اے کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔ سماعت کے موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ کے صاحبزادے سید زیرک شاہ اور ان کے وکلاءعدالت میں پیش ہوئے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: خورشید شاہ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔