اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازعہ ٹویٹس کیس کی سماعت
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازعہ ٹویٹس کیس کی سماعت WhatsAppFacebookTwitter 0 6 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:(آئی پی ایس) اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ کے خلاف متنازعہ ٹویٹس کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازعہ ٹویٹس کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ ایمان مزاری نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں وکیل مقرر کرنے کے لیے مہلت دی جائے۔
دوسری جانب پراسیکیوٹر نے مزید وقت دیے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ریاستی کونسل مقرر کرکے گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی سماعت میں دوپہر 12 بجے تک وقفہ کرتے ہوئے قرار دیا کہ آرڈر بارہ بجے جاری کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمکران کوسٹل ہائی وے پر کوچ اور ایل پی جی ٹرک میں تصادم سے7 افراد جاں بحق مکران کوسٹل ہائی وے پر کوچ اور ایل پی جی ٹرک میں تصادم سے7 افراد جاں بحق پنجاب کابینہ نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی باضابطہ توثیق کر دی آئینی ترمیم مینڈیٹ والوں کا حق ہے جبکہ موجودہ حکومت صرف 16 سیٹوں پر بنی ہے، بیرسٹر گوہر اپوزیشن لیڈر کی تقرری: سپیکر قومی اسمبلی کی اسپیشل سیکرٹری شعبہ قانون سازی سے مشاورت خطے میں قیام امن کے لئے افغانستان والے دانشمندی سے کام لیں: خواجہ آصف آئینی ترمیم کی مخالفت کریں گے، یہ صوبائی خودمختاری پر ڈاکا ہے: وزیر اعلی پختونخواCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیس کی سماعت اسلام آباد
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔