متنازع ٹوئٹ کیس: ایمان مزاری اور انکے شوہرکے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد کی مقامی عدالت نے متنازع ٹوئٹ کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد نے کیس کی سماعت کی، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے، عدالتی وقت ختم ہونے تک ملزمان عدالت سے غیر حاضر رہے۔ جس پر عدالت نے دونوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے، جس میں کہا گیا کہ عدالت پیش نہ ہونے پر کیوں نہ ملزمان کی ضمانت خارج کر دی جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزمان کے کنڈکٹ سے ظاہر ہے کہ وہ جان بوجھ کر عدالت پیش نہیں ہو رہے جبکہ استغاثہ کے 3 گواہان عدالت میں موجود رہے ہیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آبادنے کہا کہ ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں، عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف کیس کی سماعت آج تک ملتوی کر دی۔ اس سے قبل ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف فرد جرم عاید کی گئی تھی، دونوں ملزمان کورٹ میں موجود نہیں تھے۔ بعد ازاں، 30 اکتوبر کو اسلام آباد کی عدالت نے ایمان مزاری کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے، جس کے بعد عدالت سے نکلتے ہی انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کیخلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ این سی آئی اے کی جانب سے درج ایف آئی آر کے مطابق ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کی ذمے داری سیکورٹی فورسز پر ڈالی۔ یہ مقدمہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اسلام ا باد عدالت نے چٹھہ کے
پڑھیں:
سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے خلاف دائر مختلف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں، جبکہ عمران خان رہائی فورس کے خلاف دائر درخواست اور خیبرپختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات واپس لینے کے خلاف اپیل پر 29 جولائی کو سماعت ہوگی۔
چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی عدالت کا 3 رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری، کیا مقدمات کے باعث ان کی کرسی خطرے میں ہے؟
عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، آئینی عدالت اس سے قبل 9 مئی کے مقدمات کی واپسی کے حکومتی فیصلے پر حکم امتناع بھی جاری کرچکی ہے۔
ریڈیو پاکستان کی جانب سے پشاورمیں ریڈیو پاکستان پر حملے سے متعلق مقدمہ واپس لینے کے خیبرپختونخوا حکومت کے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے کا کیس: سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
درخواست میں ریڈیو پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقدمہ خیبرپختونخوا سے کسی دوسرے صوبے منتقل کیا جائے، جس کی استدعا بھی عدالت کے سامنے زیر غور آئے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9 مئی جسٹس امین الدین خان چیف جسٹس حکم امتناع خیبر پختونخوا رہائی فورس ریڈیو پاکستان سہیل آفریدی عمران خان وزیر اعلی وفاقی آئینی عدالت