متنازع پوسٹ کیس: ہادی علی چٹھہ، ایمان مزاری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
سوشل میڈیا پر متنازع پوسٹ کیس میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے کیس کی سماعت کی، وقفے کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
عدالت نے دونوں ملزمان کو گرفتار کرکے 24 ستمبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
عدالت کی جانب سے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو شو کاز نوٹس جاری کردیے گئے جس میں کہا گیا کہ عدالت میں پیش نہ ہونے پر کیوں نہ ملزمان کی ضمانت خارج کر دی جائے۔
عدالت نے سوشل میڈیا پر متنازع پوسٹ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔
اس سے قبل گزشتہ سماعت میں متنازعہ ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں