ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹوئٹس کیس کی سماعت WhatsAppFacebookTwitter 0 5 November, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس) ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹوئٹس کیس کی سماعت ہوئی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے کیس پر سماعت کی۔

ایمان مزاری نے عدالت کے گزشتہ حکم نامے کو بے بنیاد قرار دیا اور مؤقف اپنایا کہ گزشتہ عدالتی حکم میں کہا گیا کہ مجھے فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی، مجھے چارج پڑھ کر نہیں سنایا گیا عدالت میں موجود کیمروں کی ریکارڈنگ دیکھ لیں، مجھے نہیں معلوم کہ مجھ پر کیا الزام ہے۔

جج افضل مجوکا نے کہا کہ آپ کے وکیل کو الزامات بتائے گئے تھے، ایمان مزاری نے مؤقف اپنایا کہ عدالت آج چارج پڑھ کر سنا دے اور سمجھا دے۔

جج افضل مجوکا نے کہا کہ اپنے وکیل کو بلائیں انھیں چارج بتایا گیا تھا، آپ کے وکیل نے نے صحت جرم سے انکار کیا۔

ہادی علی چٹھہ نے سرکاری وکیل کو ہٹانے کی درخواست کی اور مؤقف اپنایا کہ آصف علی کو اپنا وکیل مقرر کرتا ہوں، عدالت کے مس کنڈکٹ کے خلاف ہم نے ایم آئی ٹی سے رجوع کیا ہے،
عدالت ایم آئی ٹی کا فیصلہ ہونے تک کیس کی سماعت روکے۔

جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ کیس کی سماعت نہیں رک سکتی، عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکلا کے آنے تک سماعت میں وقفہ کر دیا۔

وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو ہادی علی چٹھہ نے عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ عدالت جانبدار ہے اس کیس کی سماعت نہ کرے۔

جج افضل مجوکا نے کہا کہ فرد جرم سے پہلے عدم اعتماد کرتے تو کیس ٹرانسفر کر دیتا، فرد جرم کے بعد ہائی کورٹ ہی کیس کو ٹرانسفر کر سکتی ہے۔

ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ جج صاحب پریشر میں نظر آرہے ہیں، جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ میں کسی پریشر میں نہیں ہوں۔

ایمان مزاری نے کہا کہ عدالت پہلے فرد جرم عائد کرے ابھی تک چارج بھی ہمیں پڑھ کر نہیں سنایا گیا،جج افضل مجوکا نے کہا کہ عدالت نے فرد جرم عائد کی تھی اپنے وکیل سے پوچھیں،
قانون عدالت کو کیس کی سماعت کی جازت دیتا ہے اور وہ ہو گی۔

ایمان مزاری نے کہا کہ عدالت اس طرح کیس کی سماعت کو چلائے گی تو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے،جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ آپ عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنا چاہتے ہیں تو بے شک کر دیں۔

ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ ہمارے وکلا ہائیکورٹ میں ہیں عدالت کچھ وقت دے، عدالت نے سماعت میں 12 بجے تک وقفہ کر دیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنیویارک سے موروثی سیاست کا خاتمہ ہوگیا، مستقبل اب عوام کے ہاتھ میں ہے، زہران ممدانی کا میئر الیکشن جیتنے کے بعد پہلا خطاب پمز برن سینٹر میں پلاسٹک سرجن کی تعیناتی چیلنج، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین سے جواب طلب کرلیا دنیا کی بااثر ترین شخصیات:پاکستانی وزیر اعظم،فیلڈ مارشل،مفتی تقی عثمانی شامل صیہونی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان نے فیصلہ کن کردار اداکیا، ایرانی سفیر بلاول بھٹو کی ٹویٹ میں جو جو لکھا ہے وہ آئین کو ختم کرنے کے مترادف ہے، سینیٹر علی ظفر ستائیسویں آئینی ترمیم کا فریم ورک تیار، اگلے ہفتے دونوں ایوانوں سے منظور کروائے جانے کا امکان ایشیا کپ میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، حارث روف پر دو میچز کی پابندی عائد TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ہادی علی چٹھہ نے ایمان مزاری نے کیس کی سماعت کہ عدالت کے خلاف پڑھ کر

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم