واہگہ بارڈر خودکش حملے کے مقدمے میں پھانسی کی سزا کے منتظر 3 مجرمان بری
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے واہگہ بارڈر پر خودکش حملہ کے مقدمے میں پھانسی کی سزا پانے والے تین مجرمان کو بری کردیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے مجرم حسین اللہ، حبیب اللہ، سید جان عرف گجنی کی اپیلوں پر سماعت کی،اپیل کنندگان کے وکلا نے دلائل دئیے کہ دہشت گردی کا واقعہ دوہزار چودہ میں پیش آیا مگر مقدمے میں نوماہ کے بعد نامزد کیا۔
اپیل کنندگان پر خودکش حملہ آوروں کی سہولت کاری کا الزام تھا، پراسیکیوشن سہولت کاری کا کوئی بھی گواہ اور ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی،ٹرائل عدالت نے اپیل کنندگان کودوہزار بیس میں بلاجواز سزائے موت کا حکم سنایا، عدالت سزائے موت کالعدم قرار دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے۔
سرکاری وکیل نے بتایا کہ واہگہ بارڈر پر دہشت گردی کے واقعہ میں پچپن شہری شہید ہوئے،وقوعہ میں ایک سو دس شہری زخمی ہوئے،ملزم کسی کے رعائت کےمستحق نہیں سزائے موت برقرار رکھی جائے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد ناکافی گواہوں اور ثبوتوں کی بناء پر مجرم حسین اللہ، حبیب اللہ، سید جان عرف گجنی کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے سزائے موت کالعدم قرار دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا،مجرمان کے خلاف واہگہ بارڈر خود کش حملہ کا مقدمہ تھانہ باٹا پور میں درج کیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: واہگہ بارڈر سزائے موت
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔