گورنر نے خیبر پختونخوا کابینہ کے اراکین کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختونخوا کابینہ کے اراکین کی منظوری دے دی۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ کی بھیجی گئی سمری پر دستخط کر دیے۔
نئی کے پی کابینہ اراکین کی حلف برداری تقریب آج سہ پہر 3 بجے گورنر ہاؤس میں منعقد ہو گی۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کابینہ اراکین سے حلف لیں گے۔
واضح رہے کہ 10وزیروں، 2 مشیروں اور ایک معاون پر مشتمل خیبر پختونخوا کی نئی کابینہ تشکیل دے دی گئی ہے، ارکان آج حلف اٹھائیں گے۔
خیبر پختونخوا کی نئی کابینہ میں مینا خان، فضل شکور، فیصل ترکئی، عاقب اللّٰہ، شفیع جان، خلیق الرحمان، ڈاکٹر شامل ہیں۔
ریاض خان، فخر جہاں، تاج محمد ترند نئی کابینہ میں شامل ہیں جبکہ آفتاب عالم اور ارشد ایوب خان بھی کابینہ کا حصہ ہیں۔
سابق مشیر خزانہ مزمل اسلم کو بھی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔