ساحر لودھی کی اہلیہ عوامی سطح پر نظر کیوں نہیں آتیں؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
معروف میزبان، اداکار اور ریڈیو اناؤنسر ساحر لودھی نے اپنی نجی زندگی سے متعلق ایک اہم انکشاف کیا ہے۔
ساحر لودھی دو دہائیوں سے زائد عرصے سے شوبز انڈسٹری کا حصہ ہیں، انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ریڈیو سے کیا اور بعدازاں وہ ایک کامیاب مارننگ شو ہوسٹ کے طور پر مشہور ہوئے، انہوں نے ایک فلم میں بھی مرکزی کردار ادا کیا۔
ساحر لودھی کی شادی کو کئی سال گزر چکے ہیں اور وہ ایک بیٹی کے والد بھی ہیں، تاہم ان کی اہلیہ اور بیٹی کبھی کسی شو یا عوامی تقریب میں نظر نہیں آئیں، حتیٰ کہ جب ساحر خود مارننگ شو ہوسٹ کرتے تھے، تب بھی ان کی اہلیہ ان کے پروگرام میں شریک نہیں ہوئیں۔
ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ساحر لودھی نے بتایا کہ ان کی اہلیہ کی اپنی پسند اور ناپسند ہے، وہ ایک الگ شخصیت رکھتی ہیں اور عوام کے سامنے آنا پسند نہیں کرتیں۔
ساحر نے مزید بتایا کہ شادی کے ابتدائی دنوں میں ان کی اہلیہ چند تقریبات میں شریک ہوئیں، لیکن بعد میں انہوں نے خود کو میڈیا سے دور رکھنا ہی بہتر سمجھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ان کی اہلیہ ساحر لودھی
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔