26 نومبر احتجاج کیس، علیمہ خان کے ساتویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کے ساتویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیے۔
علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت ہوئی علیمہ خان اور ان کے وکلاء آج بھی عدالت پیش نہیں ہوئے۔
علیمہ خان کے بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ جن بینکوں نے رپورٹ جمع نہیں کرائی عدالت نے ان کو نوٹس جاری کر دیا۔
بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ فرد جرم پر نہ میرا دستخط ہے اور نہ ہی میرا انگوٹھا ہے۔
رپورٹ کے مطابق متعلقہ بینکوں میں علیمہ خان کے نام سے نمل یونیورسٹی سمیت فلاحی اداروں کے اکاؤنٹس ہیں۔
عدالت نے علیمہ خان سمیت 11ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت 6 نومبر تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف کے خلاف تھانہ صادق آباد میں مقدمہ درج ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علیمہ خان کے کے خلاف
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔