وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاق سے صوبائی حقوق کیلئے باضابطہ خط و کتابت کا کہہ دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاق سے صوبائی حقوق کےلیے باضابطہ خط و کتابت کا کہہ دیا۔
پشاور میں سہیل آفریدی کی زیرصدارت محکمہ توانائی اور برقیات کا اجلاس ہوا، جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے صوبائی حقوق کےلیے وفاق سے باضابطہ خط و کتابت شروع کرنے کا کہا۔
اجلاس میں منصوبوں پر مقررہ وقت پر عمل درآمد کے لیے قانون سازی کی ہدایت کی گئی جبکہ توانائی شعبے میں وفاق سے جڑے معاملات موثر انداز میں اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ متعلقہ محکمے مشترکہ مفادات کونسل کے زیر التوا امور کا فالو اپ کریں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی منصوبوں میں کوتاہی برداشت نہیں، زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہوگی، تاخیر کے ذمے داروں کے خلاف سخت سزائیں تجویز ہوں گی۔
سہیل آفریدی نے مقامی بجلی گھروں سے بجلی کی ترسیل و تقسیم کے پلان تیار کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی نے وفاق سے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔